Bharat Express DD Free Dish

Modi Govt VB G Ram Ji Scheme: مودی حکومت کی ’وی بی-جی رام جی‘ اسکیم سے دیہی بھارت میں تبدیلی، فعال مزدوروں کی تعداد 10.88 کروڑ تک پہنچی، خواتین کی حصہ داری 61 فیصد سے تجاوز

مالی سال 27-2026 میں اب تک 31.69 کروڑ سے زیادہ افرادی یومِ روزگار پیدا کیے گئے، دیہی علاقوں میں 2.83 لاکھ مستقل اثاثے تعمیر، ہر دیہی خاندان کو سالانہ 125 دن روزگار کی قانونی ضمانت

وزیر اعظم نریندر مودی کے ’ترقی یافتہ بھارت 2047‘ کے عزم کو عملی شکل دینے کے لیے مرکزی حکومت کی اہم اسکیم ’وکست بھارت۔ روزگار اور ذریعہ معاش مشن (دیہی)‘ یعنی ’وی بی-جی رام جی‘ نے دیہی علاقوں میں روزگار اور اثاثوں کی تعمیر کے شعبے میں نمایاں پیش رفت درج کی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 27-2026 میں اس مشن کے تحت فعال مزدوروں کی تعداد بڑھ کر 10.88 کروڑ ہو گئی ہے، جبکہ دیہی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے 2.83 لاکھ مستقل اجتماعی اور انفرادی اثاثوں کی تعمیر مکمل کی جا چکی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کا مقصد دیہی خاندانوں کو روزگار فراہم کرنے کے ساتھ انہیں معاشی طور پر خود کفیل بنانا اور گاؤں میں پائیدار ترقی کے وسائل تیار کرنا ہے۔

خواتین کی حصہ داری 61.65 فیصد تک پہنچی

’وی بی-جی رام جی‘ اسکیم کے تحت خواتین کی شرکت میں بھی نمایاں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، موجودہ مالی سال میں اب تک مجموعی افرادی یومِ روزگار میں خواتین کی حصہ داری 61.65 فیصد رہی ہے۔ اسکیم کے تحت اب تک 31.69 کروڑ سے زیادہ افرادی یومِ روزگار پیدا کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 2.23 کروڑ دیہی خاندانوں کے 2.81 کروڑ سے زیادہ مزدوروں کو ان کی مانگ کے مطابق روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ تقریباً 97.17 لاکھ مزدوروں کے ذریعے مختلف ترقیاتی کام جاری ہیں۔ حکومت کے مطابق، خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت دیہی معیشت میں ان کے کردار کو مضبوط بنانے اور انہیں آمدنی کے مواقع فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

منریگا سے وی بی-جی رام جی تک، 125 دن کے روزگار کی ضمانت

حکومت نے ’وی بی-جی رام جی ایکٹ 2025‘ کے تحت ہر مالی سال میں دیہی خاندانوں کے بالغ ارکان کو غیر ہنرمند جسمانی کام کے لیے 125 دن کے اجرتی روزگار کی قانونی ضمانت فراہم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسکیم کے تحت یومیہ اجرت کی شرح 300 روپے سے 450 روپے تک مقرر کیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔ اب تک ملک بھر میں 15.17 کروڑ دیہی روزگار ضمانتی کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں۔ سرکاری بیان کے مطابق، منریگا سے ’وی بی-جی رام جی‘ کے نئے نظام کی جانب منتقلی کو تکنیکی اعتبار سے ہموار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ روزگار کی فراہمی اور ترقیاتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔

ڈیجیٹل نظام سے شفافیت اور براہِ راست ادائیگی

اسکیم کے تحت روزگار کی منصوبہ بندی، اجرت کی ادائیگی اور ترقیاتی کاموں کی نگرانی میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا گیا ہے۔

مقامی منصوبہ بندی: گرام پنچایت شراکتی منصوبہ بندی (وی جی پی پی) کے ذریعے پنچایتوں کو مقامی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق ترقیاتی کاموں کی منصوبہ بندی کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔

پنچایتوں میں نفاذ: سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر کی تقریباً 2.31 لاکھ گرام پنچایتوں میں اسکیم کے تحت کام جاری ہیں۔

بینک کھاتوں میں براہِ راست اجرت: مالی سال 27-2026 میں اب تک براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے 3.76 کروڑ لین دین درج کیے گئے ہیں۔ اس نظام کے تحت مزدوروں کی اجرت براہِ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جاتی ہے۔

مستقبل کے کاموں کی تیاری: روزگار کی آئندہ مانگ پوری کرنے کے لیے 73.24 لاکھ منظور شدہ منصوبے تیار ہیں، جبکہ 20.16 لاکھ کام کی جگہوں پر سرگرمیاں جاری ہیں۔

دیہی بنیادی ڈھانچے اور پائیدار ترقی پر توجہ

حکومت کے مطابق، ’وی بی-جی رام جی‘ کا مقصد صرف روزانہ کی بنیاد پر روزگار فراہم کرنا نہیں، بلکہ دیہی علاقوں میں طویل مدت تک فائدہ پہنچانے والے اثاثے بھی تعمیر کرنا ہے۔ ان میں آبی تحفظ، دیہی رابطہ سڑکیں اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق دیگر کام شامل ہیں۔ اسکیم کے ذریعے روزگار کے مواقع بڑھانے، خواتین کی معاشی شرکت کو فروغ دینے اور دیہی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے خود کفیل اور قدرتی و معاشی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے قابل دیہی بھارت کی تعمیر میں مدد ملے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read