وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر (LG) کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ یونین ٹیریٹری (UT) کی منتخب حکومت کے مشورے کے بغیر جموں و کشمیر اسمبلی میں پانچ ارکان کو نامزد کر سکتے ہیں۔ وزارت داخلہ کی جانب سے یہ موقف ایک حلف نامے میں اختیار کیا گیا ہے، جو کانگریس لیڈر رویندر کمار شرما کی جانب سے دائر کی گئی رٹ پٹیشن کے جواب میں جمع کرایا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ ’’جموں و کشمیر اسمبلی میں پانچ ارکان کی نامزدگی منتخب حکومت کے دائرہ کار سے باہر کا معاملہ ہے۔ پارلیمنٹ کے قانون کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر، یو ٹی حکومت سے ایک الگ قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔‘‘
وزارت داخلہ کے مطابق یہ نامزدگیاں، جن میں دو کشمیری پنڈت (ایک خاتون سمیت)، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر (PoJK) سے تعلق رکھنے والا ایک فرد اور دو خواتین (اگر اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی ناکافی ہو) شامل ہوں گی، اسمبلی کی مجموعی نشستوں کو 90 سے بڑھا کر 95 کر دیں گی۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری میں پہلی اسمبلی انتخابات گزشتہ سال منعقد ہوئے تھے، جن میں 90 نشستوں پر مقابلہ ہوا تھا۔ ان میں سے دو نشستیں اب خالی ہو چکی ہیں، ایک رکن کے انتقال اور وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے بڈگام نشست چھوڑنے کے باعث، جنھوں نے گاندربل اور بڈگام دونوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔
اپوزیشن نے کیا سخت ردعمل کا اظہار
اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس (NC) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) نے وزارت داخلہ کے مؤقف کو جمہوری اصولوں کی ’’کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے ترجمان تنویر صادق نے کہا کہ ’’جب جموں و کشمیر میں ایک منتخب حکومت موجود ہو اور اسے نظرانداز کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر کو اراکین منتخب کرنے دیا جائے تو یہ عوامی مینڈیٹ کی توہین اور جمہوریت پر کاری ضرب ہے۔‘‘ وہیں پی ڈی پی کی سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ہندوستان کے واحد مسلم اکثریتی خطے میں مرکز کی جانب سے اس طرح قانون سازوں کا انتخاب عوامی مینڈیٹ کی نفی ہے۔ یہ اقدام جموں و کشمیر میں جمہوریت کے تصور کو مزید مجروح کرتا ہے۔‘‘
کانگریس لیڈر رویندر کمار شرما نے، جنھوں نے عدالت سے رجوع کیا تھا، کہا کہ وزارت داخلہ کے جواب کے بعد وہ 14 اگست کو عدالت میں اپنا جواب داخل کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ فیصلہ عدالت کرے گی، نہ کہ وزارت داخلہ۔‘‘ سیاسی جماعتوں نے عمر عبداللہ کی قیادت میں قائم موجودہ حکومت سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس ’’غیر جمہوری روایت‘‘ کو عدالت میں چیلنج کرے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ’’اگر آج خاموشی اختیار کی گئی تو کل یہ خاموشی مجرمانہ غفلت تصور کی جائے گی۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

