Bharat Express DD Free Dish

Muskan gave birth in jail daughter Radha: نیلے ڈرم والی مسکان نے اپنی بیٹی کا رکھا یہ نام، سپرنٹنڈنٹ نے کیا خلاصہ… بچی کا باپ کون؟ معمہ مزید گہرا یا

میرٹھ کے بدنام بلو ڈرم کیس کی ملزمہ مسکان نے جیل میں ایک بیٹی کو جنم دیا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ نے یہ اطلاع دی ہے لیکن بچی کے والد کی شناخت ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔

میرٹھ کا معروف نیلا ڈرم کیس تو آپ کو یاد ہی ہوگا۔ جی ہاں، وہی نیلا ڈرم کیس جو آج بھی موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس کیس کی ملزمہ مسکان نے جیل میں ایک بچی کو جنم دیا ہے اور اس کا نام رادھا رکھا ہے۔ جیل انتظامیہ کے مطابق، دوران حمل مسکان نے خواہش ظاہر کی تھی کہ اگر بیٹا پیدا ہوا تو اس کا نام کرشن رکھے گی، لیکن بیٹی ہونے پر اس نے رادھا نام منتخب کیا۔

ساحل کا سوال اور نیا معمہ

جیل سپرنٹنڈنٹ ویریش راج شرما نے بتایا کہ پیدائش کی خبر جیسے ہی سامنے آئی، ساتھی ملزم ساحل نے صبح جیل انتظامیہ سے پوچھا کہ مسکان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا یا بیٹی۔ اس سوال کے بعد طرح طرح کی چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں۔ بہت سے لوگ یہی اندازہ لگانے لگے کہ کہیں نومولود بچی کا والد ساحل تو نہیں۔ تاہم، افسران کا واضح کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ہی حقیقت سامنے آئے گی۔ اس سے پہلے کوئی بھی قیاس آرائی کرنا درست نہیں ہوگا۔

بچی کتنے عرصے تک جیل میں رہے گی؟

جیل مینول کے مطابق، خواتین قیدی اپنے بچوں کو چھ سال تک اپنے ساتھ جیل میں رکھ سکتی ہیں۔ اسی قانون کے تحت، مسکان کی بچی اب آنے والے چھ سال تک اسی کی نگرانی میں جیل کے اندر رہے گی۔ دوران حمل مسکان کی خصوصی دیکھ بھال کی گئی اور میڈیکل کالج میں اس کے باقاعدہ طبی معائنے ہوتے رہے، جبکہ ڈاکٹرز کی ہدایت کے مطابق خوراک اور دوائیں فراہم کی جاتی رہیں۔

نیلا ڈرم کیس کی کہانی

مسکان اور اس کے عاشق ساحل اس وقت سرخیوں میں آئے جب یہ انکشاف ہوا کہ دونوں نے مل کر مسکان کے شوہر سورَو کو قتل کیا۔ الزام ہے کہ قتل کے بعد لاش کے ٹکڑے کر کے ایک بڑے نیلے ڈرم میں بھرا گیا اور اوپر سے سیمنٹ ڈال دیا گیا۔ اس واردات کے بعد دونوں ہمالیہ کی سیر کے لیے بھی نکل گئے اور ان کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔

سورَو کے خاندان کا رد عمل

تقریباً 15 دن بعد یہ معاملہ سامنے آیا اور پولیس نے دونوں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔ جیل میں میڈیکل چیک اپ کے دوران مسکان کے حاملہ ہونے کا انکشاف ہوا۔ اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ بچی کا باپ کون ہے؟ سورَو کے خاندان نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ وہ لازمی طور پر ڈی این اے ٹیسٹ کروائیں گے تاکہ سچائی سامنے آ سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔