Bharat Express DD Free Dish

Mayawati supports Bharat Bandh: مایاوتی نے کی بھارت بند کی حمایت، پرامن اور نظم و ضبط کے ساتھ انجام دینے کی اپیل کی

سپریم کورٹ نے ایس سی-ایس ٹی ریزرویشن میں کریمی لیئر سے متعلق اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ ریاستی حکومتیں اب درج فہرست ذاتوں یعنی ایس سی کے ریزرویشن میں کوٹہ دے سکیں گی۔

بی ایس پی سربراہ مایاوتی

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے ریزرویشن میں درجہ بندی کے خلاف ’بھارت بند‘ کی حمایت کی ہے۔ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ ’بھارت بند‘ کے تحت حکومت کو ایک میمورنڈم دیا جا رہا ہے جس میں آئینی ترمیم کے ذریعے ریزرویشن میں تبدیلیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس میں بغیر کسی تشدد کے نظم و ضبط اور پرامن طریقے سے کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ 2024 میں ایس سی/ایس ٹی اور کریمی لیئر کی ذیلی زمرہ بندی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف غصہ اور ناراضگی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’اس کے بارے میں، ان طبقوں کے لوگوں کی طرف آج ’بھارت بند‘ کے تحت حکومت کو ایک میمورنڈم دے کر جس میں ریزرویشن میں تبدیلیوں کو آئینی ترمیم وغیرہ کے ذریعے ختم کرنے کا مطالبہ ہے، جسے بغیر تشدد کے نظم و ضبط اور پرامن طریقے سے کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید لکھا، ’’ایس سی-ایس ٹی کے ساتھ ساتھ او بی سی کمیونٹی کو بھی ریزرویشن کا آئینی حق ملا، یہ ان طبقات کے حقیقی مسیحا بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے، جس کی ضرورت اور حساسیت کو بی جے پی، کانگریس اور دیگر پارٹیاں سمجھ کر، اس کے ساتھ بھی کھلواڑ نہ کریں۔

قابل ذکر ہے کہ ملک بھر میں مختلف تنظیموں نے درج فہرست ذات اور قبائل کے ریزرویشن میں کریمی لیئر پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف آج (21 اگست) کو ’بھارت بند‘ کی کال دی ہے۔ بی ایس پی سمیت کئی پارٹیاں اس بند کی حمایت کر رہی ہیں۔

سپریم کورٹ نے ایس سی-ایس ٹی ریزرویشن میں کریمی لیئر سے متعلق اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ ریاستی حکومتیں اب درج فہرست ذاتوں یعنی ایس سی کے ریزرویشن میں کوٹہ دے سکیں گی۔ اس نے کہا تھا کہ ریاستی حکومتیں من مانی فیصلے نہیں لے سکتیں۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے سات ججوں پر مشتمل آئینی بنچ کا تھا۔ کہا گیا کہ درج فہرست ذات کو اس میں شامل ذاتوں کی بنیاد پر تقسیم کرنا آئین کی دفعہ 341 کے خلاف نہیں ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read