نئی دہلی: اسلام ایک کامل دین ہے، جورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرمکمل کردیا گیا، اس کی تکمیل کے بعد اس میں حذف واضافہ کی گنجائش ختم کردی گئی اورصرف اسی اسلام کوقابل قبول قراردیا گیا، جوعہدرسالت اورعہد صحابہ سے ثابت ہوتا ہے، خیرالقرون کے طریقہ کوچھوڑکرجوبھی اسلام کے نام پرکوئی عمل کرتا ہے تووہ مردود ہے اوروہ طریقہ کارثواب کے بجائے عذاب الٰہی کا باعث ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ آج برصغیرمیں پائی جانے والی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اوریہاں مروجہ فقہ کے متبعین جس اسلام کی وکالت کررہے ہیں، اس کا ایک بڑا حصہ خود ساختہ ہے اوراس کا کوئی بھی تذکرہ اورثبوت صحابہ کرام اورعہدرسالت میں نہیں ملتا۔ برصغیرکا مروجہ اسلام بدعات وخرافات پرمبنی اورقرآن وسنت سے یکثربھٹکا ہوا نظرآتا ہے۔ یہاں لوگ باپ دادا کے طریقہ کواسلام سمجھ کراسی پرعمل کرتے ہیں اورحقیقی اسلام کی بنیادوں کے بارے میں یہاں کے علماء کا ایک بڑا طبقہ ان کی رہنمائی کرنا ہی نہیں چاہتا ہے۔ ان خیالات کا اظہارابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدرمولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سینٹرکی جامع مسجد ابوبکرصدیق، جوگابائی، نئی دہلی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ماہ شعبان میں انجام دی جانے والی بدعات وخرافات اوربدعات کی برائیوں اورقباحتوں سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ بدعات کورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی مردود کہا گیا ہے اورامام مالک رحمہ اللہ نے بدعت کورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرخیانت کا اتہام قراردیا ہے کیونکہ دین کی تکمیل کے بعد دین کی طرف کسی بات کی نسبت سے یہ لازم آتا ہے کہ (نعوذ باللہ) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھپالیا تھا۔ اسی طرح بدعت اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کواللہ تعالیٰ نے سورہ نورمیں فتنہ اوردرد ناک عذاب کا سبب قراردیا ہے اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خطرناک بوجھ سے تعبیرکرتے ہوئے کیا کہ بدعت کوانجام دینے والا خود اپنے لیے اوراس کے ذریعہ جولوگ بدعت کو اپناتے ہیں، ان سب کے گناہوں کا بوجھ اپنے کندھے پرلادلیتا ہے۔
مولانا محمد رحمانی مدنی نے مزید کہا کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ کے بقول بدعتی کی حمایت کرنے والا اوراس سے محبت کا اظہارکرتے ہوئے ہاتھ ملانے والا اسلام کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے۔ نیزامام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل بدعت کی باتوں کونہ لکھا کرو، جبکہ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ دل جب بدعات سے منسلک ہوجاتا ہے توسنت سے اعراض کرنے لگتا ہے اورشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے سفیان ثوری رحمہ اللہ وغیرہ کا قول نقل کیا ہے کہ بدعت ابلیس کی نظرمیں معصیت اوربڑے بڑے گناہوں سے زیادہ محبوب ہوتی ہے اوراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وجہ سے فرمایا ہے کہ اللہ ہربدعتی سے توبہ کے دروازہ کوبند کردیتا ہے اورتوبہ کی توفیق چھین لیتا ہے۔ اسی طرح امام بغوی رحمہ اللہ نے اہل بدعت کے بائیکاٹ اوران سے عداوت پرصحابہ کرام، تابعین اورعلمائے سنت کا اجماع نقل کیا ہے۔ معروف عالم ابوالجوزا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے سوراوربندروں کے پڑوس میں رہائش اختیار کرنا گوارہ ہے، لیکن بدعتیوں کا پڑوس گوارہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیامت کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حوض پرآنے سے امت محمدیہ کے بعض افراد کوروک دیا جائے گا اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں سے براءت کا اعلان فرمادیں گے کیوںکہ وہ ایسے افراد ہوں گے، جنہوں نے دین میں نئی باتیں ایجاد کرلی ہوں گی۔
مولانا محمد رحمانی مدنی نے بدعات کے تناظرمیں ماہ شعبان کی ان بدعات کا تذکرہ بھی کیا، جن کا اسلاف امت میں کچھ بھی تصور نہیں پایا جاتا تھا اوران دلائل کا بھی ذکرکرلیا، جن کواہل بدعت اپنے عمل کے لیے دلیل بناتے ہیں جبکہ وہ ساری دلیلیں انتہائی کمزوراورمن گھڑت ہیں۔ مثلاً علی رضی اللہ عنہ کی روایت کہ 15 شعبان کے دن میں روزہ اوررات میں خصوصی عبادت کا اہتمام کرویا 100 رکعت نمازیں ادا کرووغیرہ جبکہ یہ روایتیں من گھڑت اورسخت کمزورہیں۔ اسی طرح شعبان کے ماہ کی نسبت اللہ کی طرف کرنا یا یہ کہنا کہ پندرہ شعبان کی شب میں قرآن مجید نازل ہوا تھا یا صلاة الرغائب (ہزاری نماز) کا اہتمام کرنا، ساٹھ سال اگلے اور60 سال پچھلے گناہوں کی معافی کا اعتقاد رکھنا ، خصوصیت کے ساتھ پندرہ شعبان کوروزہ رکھنا یا قبرستان کی زیارت کا خصوصی اہتمام کرنا، قبرستان میں پکوان اورکھانے پینے کا چڑھاوا دینا، چراغاں کرنا، چادریں چڑھانا، روحوں کی آمد کا عقیدہ رکھنا ، آتش بازی کرنا اورحلوہ اور شیرینی کا اہتمام کرنا وغیرہ سب خرافاتی اعمال ہیں اوران اعمال کونہ شعبان میں اورنہ عمومی لحاظ سے کبھی بھی انجام دینا جائزہے اورنہ ہی ایسا کوئی عمل ائمہ اربعہ، صحابہ، تابعین اوراللہ کے رسول سے ثابت ہے بلکہ یہ عذاب الٰہی کا باعث اوربدعات پرمبنی اعمال ہے، جنہیں انجام دینا حرام ہے۔ اخیرمیں خالص اسلام کی طرف رجوع کرنے کی اپیل ، بدعات سے مکمل اجتناب کرنے کی اپیل اوردعائیہ کلمات پرخطبہ ختم ہوا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

