وزیراعظم نریندر مودی۔
نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے عوام سے 2 اکتوبر کو کھادی مصنوعات خریدنے کی اپیل کی ہے۔ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کے 126ویں ایپی سوڈ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2 اکتوبر کو ضرور کوئی نہ کوئی کھادی پروڈکٹ خریدیں۔ فخر سے کہیں – یہ دیسی ہے، اور اسے سوشل میڈیا پر ’ووکل فور لوکل‘ کے ساتھ شیئر بھی کریں۔
وزیراعظم مودی نے کہا، ’’2 اکتوبر گاندھی جینتی ہے۔ گاندھی جی نے ہمیشہ دیسی مصنوعات کو اپنانے پر زور دیا اور ان میں کھادی سب سے اہم تھی۔ بدقسمتی سے آزادی کے بعد کھادی کی رونق کچھ مدھم پڑتی جا رہی تھی، لیکن گزشتہ 11 سال میں کھادی کے تئیں عوام کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں کھادی کی فروخت میں تیزی دیکھی گئی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ کھادی کی طرح ہی ہمارے ہینڈلوم اور ہینڈی کرافٹ سیکٹر میں بھی کافی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ ہمارے ملک میں ایسے کئی مثالیں سامنے آ رہی ہیں، جو یہ بتاتی ہیں کہ اگر روایت اور انوویشن کو ایک ساتھ جوڑ دیا جائے تو شاندار نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم مودی نے جھارکھنڈ کے آشیش ستیہ ورت ساہو کی کہانی بیان کی۔ انہوں نے کہا، ’’ستیہ ورت ساہو نے جوہار گرام برانڈ کے ذریعے قبائلی بُنائی اور ملبوسات کو عالمی ریمپ تک پہنچایا ہے۔ ان کی کوششوں سے آج جھارکھنڈ کی ثقافتی وراثت کو دوسرے ممالک کے لوگ بھی جاننے لگے ہیں۔‘‘
اسی طرح تمل ناڈو کے ’یاژ نیچرلز‘ کی پہل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اشوک جگدیشان اور پریم سیلواراج نے کارپوریٹ نوکری چھوڑ کر گھاس اور کیلے کے ریشے سے فائبر اور یوگا میٹ تیار کیے۔ انہوں نے ہربل رنگوں سے کپڑے رنگے اور 200 خاندانوں کو تربیت دے کر انہیں روزگار بھی فراہم کیا۔
بہار کے مدھوبنی ضلع کی سویٹی کماری کے ’سَنْکَلپ کری ایشن‘ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ انہوں نے متھلا پینٹنگ کو روزگار کا ذریعہ بنایا۔ ان کے ساتھ 500 سے زیادہ دیہی خواتین جڑ کر آتم نربھر ہو رہی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ کامیابی کی داستانیں سکھاتی ہیں کہ ہماری روایات میں آمدنی کے بے شمار ذرائع چھپے ہیں۔ اگر ارادہ مضبوط ہو تو کامیابی دور نہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

