منی پور میں آپریشن ’کھانپی‘،۔
امپھال: منی پور کے چوراچاند پور ضلع میں منگل کے روز اچانک دہشت پھیل گئی، جب خفیہ اطلاع کی بنیاد پر شروع کیے گئے ایک آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں نے بھارتی فوج اور آسام رائفلز کی ٹیم پر فائرنگ کر دی۔
فائرنگ کے بعد سیکورٹی فورسز کی کارروائی
یہ واقعہ کھانپی گاؤں کے قریب، ضلع کے مغرب میں تقریباً 80 کلومیٹر دور ہینگلیپ سب ڈویژن کے جنگلاتی علاقے میں پیش آیا۔ بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی، جس میں یونائیٹڈ کوکی نیشنل آرمی (UKNA) کے چار مسلح کارکن مارے گئے۔ آپریشن ابھی بھی جاری ہے اور اردگرد کے علاقوں میں تلاشی مہم چل رہی ہے۔
فوج کی کارروائی میں چار عسکریت پسند ہلاک
موصولہ معلومات کے مطابق، واقعہ صبح تقریباً 6 بجے شروع ہوا۔ سیکورٹی فورسز کھانپی کے جنگلات میں یو کے این اے کے مشتبہ ٹھکانوں کو گھیرنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ اچانک عسکریت پسندوں نے چھپ کر فائرنگ شروع کر دی۔ فورسز کی جوابی کارروائی میں چار عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔
موقع سے ہتھیار اور گولہ بارود ہوئے برآمد
دفاعی ذرائع کے مطابق، یہ یو کے این اے کے فعال رکن تھے، جو ایک نان-ایس او او کے باغی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ گروپ جنوبی منی پور کے پہاڑی اضلاع میں سرگرم رہتا ہے۔ فائرنگ کے بعد موقع سے ہتھیار اور گولہ بارود برآمد کیے گئے۔
گرام پردھان کو 28 اکتوبر کو کیا گیا تھا قتل
یہ کارروائی یو کے این اے کے حالیہ مظالم کے جواب میں کی گئی تھی۔ اس گروپ کے ارکان نے چوراچاند پور میں ایک گرام پردھان کو بے رحمی سے قتل کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے مقامی لوگوں کو بارہا دھمکایا اور علاقے میں امن و استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ گرام پردھان ہاؤکیپ کو 28 اکتوبر کو ٹی کھونومفائی گاؤں میں پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا تھا۔ گرام پردھان ہاؤکیپ کا قتل 28 اکتوبر کو ٹی کھونومفائی گاؤں میں ہوا تھا، جہاں عسکریت پسندوں نے انہیں پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا۔
اہل خانہ اور پولیس کے مطابق، یہ حملہ کسی پرانی رنجش یا وصولی سے جڑا ہو سکتا ہے۔ یو کے این اے پر اس سے قبل بھی وصولی، دھمکی اور تشدد کے کئی مقدمات درج ہیں۔ بھارتی فوج اور آسام رائفلز نے اس کامیاب کارروائی کو معصوم شہریوں کے تحفظ اور تمام خطرات کے خاتمے کے عزم کی علامت قرار دیا ہے۔ منی پور میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے سیکورٹی فورسز ایسے آپریشنز مسلسل انجام دے رہی ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، حالیہ مہینوں میں ریاست میں لسانی و نسلی کشیدگی کے باعث تشدد میں اضافہ ہوا ہے، جس میں مئی 2023 سے اب تک 260 سے زائد افراد ہلاک اور 60 ہزار سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



