Bharat Express DD Free Dish

Mamata Banerjee Post On CJP Protest: یہ کیسی حکومت ہے جو اپنے ہی طلبہ سے ڈرتی ہے؟ سی جے پی کارکنوں پر لاٹھی چارج کے بعد ممتا بنرجی کا مرکز پر سخت حملہ

ترنمول کانگریس سربراہ نے کہا کہ یہ ملک اپنے طلبہ، کسانوں، خواتین، مزدوروں اور ہر شہری کا ہے۔ اختلافِ رائے کوئی جرم نہیں اور نہ ہی سختی اور تشدد کو بہتر حکمرانی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں عوام کی آواز کو دبانے کے بجائے اسے سنا جانا چاہیے۔ممتا بنرجی نے سی جے پی کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے نوجوان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہیں

نئی دہلی :مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے “پارلیمنٹ چلو” مارچ کے دوران مظاہرین پر پولیس لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو نوجوانوں اور طلبہ کی آواز سننی چاہیے، نہ کہ ان کے خلاف طاقت کا استعمال کرنا چاہیے۔ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا، “میں آج دہلی میں ہمارے نوجوانوں اور طلبہ پر ہونے والی پولیس کی بربریت کی سخت مذمت کرتی ہوں۔” انہوں نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے سوال اٹھایا، “یہ کیسی حکومت ہے جو اپنے ہی طلبہ سے خوفزدہ ہے؟ یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں سوالوں کے جواب بات چیت سے نہیں بلکہ لاٹھیوں اور آنسو گیس سے دیے جاتے ہیں؟”

ترنمول کانگریس سربراہ نے کہا کہ یہ ملک اپنے طلبہ، کسانوں، خواتین، مزدوروں اور ہر شہری کا ہے۔ اختلافِ رائے کوئی جرم نہیں اور نہ ہی سختی اور تشدد کو بہتر حکمرانی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں عوام کی آواز کو دبانے کے بجائے اسے سنا جانا چاہیے۔ممتا بنرجی نے سی جے پی کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے نوجوان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جوابدہی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور احتجاج میں شریک ہر نوجوان اپنی ہمت، حوصلے اور جذبے کے لیے قابلِ تحسین ہے۔ ان کے مطابق ان نوجوانوں نے پورے ملک کو دکھایا ہے کہ بے خوفی اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا کیا ہوتا ہے۔دوسری جانب نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ سی جے پی کے کارکنوں نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا۔ مظاہرین کو روکنے کے لیے دہلی کے شاستری بھون کے قریب پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔ اطلاعات کے مطابق بڑی تعداد میں مظاہرین جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔

احتیاطی اقدامات کے طور پر بعض میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی دروازے بند کر دیے گئے، جس کے باعث کئی مسافر قریبی اسٹیشنوں کے اندر ہی پھنس گئے۔ وسطی دہلی میں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات رہی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی میں 17 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔اسی دوران مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے سی جے پی کے نمائندوں سے ملاقات کی، جہاں وفد نے انہیں ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ دہرایا۔ دوسری جانب اس معاملے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے درمیان بھی اہم اجلاس ہوا، جو تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہا۔ اجلاس میں احتجاج، امتحانی بے ضابطگیوں اور آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read