ممتا بنرجی کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے چندریما بھٹا چاریہ ٹی ایم سی کے سبھی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ (فائل فوٹو)
مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ اورترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) سربراہ ممتا بنرجی کو بڑا سیاسی جھٹکا لگا ہے۔ ان کی قریبی مانی جانے والی اوربنگال ٹی ایم سی کی ریاستی صدرچندریما بھٹا چاریہ نے پارٹی کے سبھی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے ممتا بنرجی کو خط لکھ کرنہ صرف ریاستی صدرعہدہ چھوڑا، بلکہ پارٹی اوراس سے متعلق سبھی دیگرذمہ داریوں سے بھی خود کو الگ کرلیا۔
ریاستی صدرعہدے سے دیا استعفیٰ
چندریما بھٹا چاریہ نے اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ وہ 3 جون 2026 کو کالی گھاٹ میں ہوئی میٹنگ میں انہیں سونپے گئے آل انڈیا ترنمول کانگریس کے ریاستی صدرعہدے سے استعفیٰ دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پارٹی میں موجودہ وقت میں سنبھال تمام سبھی دیگرعہدوں کی ذمہ داریوں سے بھی استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔
بینک کھاتوں کے مجاز دستخط کی ذمہ داری بھی چھوڑی
اپنے خط میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ آل انڈیا ترنمول کانگریس اور اس سے متعلق دیگرتنظیموں کے مختلف بینکوں میں آپریٹ ہونے والے کھاتوں کی مجازدستخط کنندہ (آتھرائزڈ سگنیٹری) کے طورپراپنی ذمہ داری بھی واپس لے رہی ہیں۔ چندریما بھٹا چاریہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اب ممتا بنرجی کی طرف سے الیکشن کمیشن کے سامنے مجازنمائندہ (آتھرائزڈ پرسن) کے طورپربھی کام نہیں کریں گی۔ انہوں نے خط میں اس سے متعلق اپنی رضا مندی واپس لینے کی بات کہی ہے۔ حالانکہ چندریما بھٹا چاریہ نے اپنے استعفیٰ میں کسی بھی وجہ کا ذکرنہیں کیا ہے۔ ان کے اچانک سبھی عہدوں سے ہٹنے کے فیصلے نے مغربی بنگال کی سیاست میں ہلچل تیزکردی ہے۔ فی الحال ترنمول کانگریس کی طرف سے اس عہدے پرکوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
سیاسی حلقوں میں ہونے لگی قیاس آرائیاں
چندریما بھٹا چاریہ کو ممتا بنرجی کے سب سے قابل اعتماد لیڈران میں شمارکیا جاتا رہا ہے۔ ایسے میں ان کا سبھی تنظیمی عہدوں سے استعفیٰ پارٹی کے لئے ایک اہم حادثہ مانا جا رہا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے کی وجہ سامنے آنے کے بعد اس کا اثرریاست کی سیاست پربھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

