نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے جس کے تحت 2020 دہلی فسادات کے مبینہ سازش معاملے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کر دی گئی، جبکہ اسی مقدمے کے پانچ دیگر ملزمان کو ضمانت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اسکالروں اور سماجی کارکنوں کی پانچ سال سے زائد عرصے تک بغیر ٹرائل کے مسلسل قید، ملک میں شخصی آزادی اور قانونی عمل کی صورت حال پر سنگین آئینی، قانونی اور اخلاقی سوالات کھڑے کرتی ہے۔
طویل حراست عدالتی عمل کے ذریعے سزا کے مترادف
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک معتصم خان نے کہا کہ بغیر ٹرائل کے طویل حراست دراصل عدالتی عمل کے ذریعے سزا کے مترادف ہے، جو آئین کے آرٹیکل 21 کی روح کے منافی ہے۔ شخصی آزادی کو ایسے عدالتی نظام کی تاخیر سے مشروط نہیں کیا جا سکتا جس کی ذمہ داری ملزموں پر عائد نہیں ہوتی۔ جب تاخیر ہی ضمانت سے انکار کی بنیاد بن جائے تو ایک کمزور فوجداری انصاف کے نظام کا بوجھ حکومت کے بجائے افراد پر ڈال دیا جانا انصاف کے منافی ہے، جس کی وجہ سے حق زندگی اور شخصی آزادی کی آئینی ضمانت کھوکھلی ہو جاتی ہے۔
ملک معتصم خان نےمزید کہا کہ اس کیس میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعہ 43ڈی(5) کا ضمانت کے مرحلے پر اطلاق ضمانت اور مقدمے کے درمیان فرق کو مبہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ استغاثہ کی دلیلوں پر انحصار کر کے ضمانت مسترد کرنا، ملزمین کے حتمی فیصلہ تک بےگناہ ہونے کے تصور کو کمزور کرتا ہے اور ضمانت کی سماعت کو جرح اور مکمل فیصلے کے تحفظات کے بغیر ایک طرح کے ’منی ٹرائل‘ میں بدل دیتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرزعمل سے ٹرائل سے پہلے قید کو استثنا کے بجائے معمول بنانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
ملک معتصم خان نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ جہاں پانچ ملزمان کو ضمانت دی گئی وہیں عمر خالد اور شرجیل امام کے ساتھ مختلف رویہ اختیار کیا گیا۔ اگرچہ انہوں نے دیگر ملزمان کو دی گئی راحت کا خیرمقدم کیا، تاہم کہا کہ اس قسم کی تفریق قانون کے سامنے برابری کے اصول سے انحراف محسوس ہوتی ہے۔ خاص طور پر اس وقت جبکہ تمام ملزمان طویل حراست کا سامنا کر چکے ہوں۔
وسیع تر جمہوری مضمرات کی جانب توجہ دلاتے ہوئے ملک معتصم خان نے خبردار کیا کہ جن مقدمات کی بنیاد بڑی حد تک تقاریر، عوامی بیداری اور احتجاجی سرگرمیوں پر ہو ان کو دہشت گردی کے مقدمات کی طرح دیکھنا انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے قوانین کے دائرۂ کار کو سیاسی اظہار اور احتجاج تک پھیلانا ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے جو جمہوری جدوجہد اور اختلاف کے آئینی حق کو مجروح کرتی ہے۔ قومی سلامتی بے شک اہم ہے، مگر اسے شہری آزادیوں کو کمزور کرنے یا آئینی تحفظات معطل کرنے کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے سخت ٹائم لائنز کے ساتھ تیز رفتار ٹرائل، مسلسل عدالتی جائزے اور یو اے پی اے کی اُن دفعات کے ازسر نو جائزے کا مطالبہ کیا جو ضمانت میں بے جا رکاوٹوں اور شخصی آزادی میں قدغن اور بنیادی حقوق کی پامالی کا سبب بن رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
