UAPA Bail Supreme Court Decisions: بغیر مقدمے کی سماعت پانچ سال قید؟ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام قانون کی دفعہ 43ڈی(5) پر سپریم کورٹ میں شدید بحث
یو اے پی اے مقدمات میں ضمانت سے متعلق سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ طویل سماعتوں اور سزا کی کم شرح کے نتیجے میں بہت سے افراد برسوں تک جیل میں رہتے ہیں۔
Anurag Thakur’s ban lifted: سپریم کورٹ نے انوراگ ٹھاکر پر عائد پابندی ہٹائی، اب بی سی سی آئی میں سنبھال سکیں گے عہدہ
سپریم کورٹ نے سال 2017 میں دیے گئے اپنے حکم میں ترمیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ انوراگ ٹھاکر پر لگائی گئی پابندی تاحیات نااہلی کے طور پر نافذ نہیں کی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ اس وقت اس کا مقصد مستقل پابندی لگانا نہیں تھا اور نہ ہی ایسا کرنا مناسب سمجھا گیا تھا۔
Jamaat-e-Islami Hind: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے سخت ٹائم لائنز کے ساتھ تیز رفتار ٹرائل، مسلسل عدالتی جائزے اور یو اے پی اے کی اُن دفعات کے ازسر نو جائزے کا مطالبہ کیا جو ضمانت میں بے جا رکاوٹوں اور شخصی آزادی میں قدغن اور بنیادی حقوق کی پامالی کا سبب بن رہی ہیں ۔
Sanjay Kumar gets big relief from Supreme Court: سنجے کمار کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، مہاراشٹر ووٹر لسٹ پر غلط معلومات کے الزام میں درج دو ایف آئی آر پر کارروائی پر روک
چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی اور جسٹس این وی انجاریہ کی بنچ نے سینئر وکیل وویک تنکھا اور وکیل سمیر سوڈھی کے دلائل سننے کے بعد نوٹس جاری کیا اور حکم دیا کہ اس دوران سنجے کمار کے خلاف کوئی سزا یا گرفتاری کی کارروائی نہ ہو۔
Renuka Swamy murder case: رینوکا سوامی قتل کیس میں کنڑ اداکار درشن کو بڑا دھچکا، سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ پلٹ دیا، ضمانت منسوخ، فوری گرفتاری کا حکم
48 سالہ درشن دو دہائیوں سے کنڑ فلم انڈسٹری میں سرگرم ہیں لیکن تنازعات سے ان کا پرانا تعلق رہا ہے۔ 2011 میں بیوی نے گھریلو تشدد کا مقدمہ درج کرایا۔ ان پر 2021 میں ایک ویٹر کے ساتھ ہاتھاپائی کا الزام لگا اور 2023 میں پالتو کتے کو پڑوسی پر حملہ کرنے کے لیے چھوڑنے کا تنازع بھی سرخیوں میں رہا۔
Supreme Court On Udaipur Files Film: ادے پور فائلز کی نمائش پر پابندی برقرار، فلم پروڈیوسر کی عرضی سپریم کورٹ نے کردی خارج
سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں یہ فلم دیکھی ہے اور فلم دیکھنے کے بعد وہ اندرسے دہل گئے تھے کیونکہ فلم میں ایک مخصوص فرقے کے خلاف نفرت آمیز مناظر دکھائے گئے ہیں





