ناگپور تشدد معاملے میں اب سائبر سیل ایکشن میں ہے۔
ناگپورتشدد کے معاملے میں مہاراشٹرسائبرڈپارٹمنٹ نے فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کے مقصد سے سوشل میڈیا کئے گئے 140 پوسٹ اورویڈیو کی پہچان کی ہے۔ سائبرافسرکے مطابق، یہ ویڈیواورپوسٹ فیس بک، انسٹا گرام، ایکس اوریوٹیوب پراپلوڈ کئے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے پوسٹ کوفوراً ہٹانے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ یہ نوٹس انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ایکٹ 2000 کی دفعہ 79 (3) (بی) کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان اکاؤنٹس کوچلانے والے لوگوں کی حقیقی پہچان جاری کرنے کے لئے بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اسے انڈین سول ڈیفنس کوڈ (بی این ایس ایس) کی دفعہ 94 کے تحت بھی کیا گیا ہے۔ مہاراشٹرسائبرنے ناگپورسٹی سائبرپولیس اسٹیشن کے ساتھ مل کر، پیرکو ہوئے ناگپورفسادات سے متعلق قابل اعتراض پوسٹ کونشرکرنے میں لگے کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی پہچان کی ہے۔
ملک کی بدامنی کے لئے سنگین خطرہ
انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرسائبر نے ایک پریس ریلیزمیں بتایا ہے کہ اس طرح کا کوئی بھی پوسٹ جوجان بوجھ کرایک خصوصی مذہبی گروپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اس پوسٹ کے ذریعہ فرقہ وارانہ بدامنی کوبھڑکانے اور ریاست میں چل رہے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ گہرے عقائد کا فائدہ اٹھا کر، اس طرح کی پوسٹس کے ذریعہ عوام کومشتعل کرنے، تفرقہ پیدا کرنے اوربرادریوں کے درمیان تقسیم کوگہرا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف قانونی دفعات کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ امن واستحکام کے لئے بھی سنگین خطرہ ہیں۔
لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ معلومات کوآن لائن شیئرکرتے وقت احتیاط برتیں اورناگپورتشدد کے سلسلے میں پولیس نے اب تک 69 لوگوں کوگرفتارکیا ہے، جن میں اقلیتی ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈرفہیم خان اوروشوہندوپریشد (وی ایچ پی) کے 8 کارکنان شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ قانون کا خوف پیدا ہوگا۔ تین ڈی سی پی رینک کے افسران سمیت 33 پولیس اہلکارزخمی ہوئے، جب گاڑیوں کونقصان پہنچا، پولیس پرپٹرول بم اورپتھرپھینکے گئے اورگھروں پر حملے کئے گئے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


