Bharat Express DD Free Dish

Delimitation Commission Bill 2026: لوک سبھا کی 800 سے زائد سیٹیں! اتر پردیش میں 120 تو تلنگانہ میں 26، کیا بدل جائے گا ملک کا وزیراعظم منتخب کرنے کا حساب؟

مجوزہ منصوبے کے تحت لوک سبھا کی نشستوں میں تقریباً 50 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس میں 33 فیصد نشستیں خواتین کے لیے محفوظ رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ تاہم نشستوں میں اضافہ تمام ریاستوں میں یکساں نہیں ہوگا، بلکہ آبادی کے لحاظ سے مختلف ریاستوں میں نشستوں کی تعداد میں فرق آ سکتا ہے۔

نئی دہلی: ملک میں عام انتخابات کے سیاسی حساب کو بدلنے والی ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں حکومت 2026 میں حلقہ بندی سے متعلق بل لانے پر غور کر رہی ہے۔ اس مجوزہ عمل کے تحت لوک سبھا کی کل نشستوں کو موجودہ 543 سے بڑھا کر تقریباً 816 تک کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف پارلیمانی سیاست بلکہ وزیر اعظم کے انتخاب کا حساب بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت 2026 کے بجٹ سیشن یا خصوصی اجلاس میں حلقہ بندی کمیشن سے متعلق بل پیش کر سکتی ہے۔ یہ قدم ناری شکتی وندن ایکٹ کے بعد نشستوں کی نئی تقسیم کے عمل سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ عمل میں 2011 کی مردم شماری یا دستیاب تازہ اعداد و شمار کی بنیاد پر نئی حد بندی کی جا سکتی ہے تاکہ آبادی میں تبدیلی کے مطابق نمائندگی کو متوازن بنایا جا سکے۔

حلقہ بندی دراصل انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی کا عمل ہے، جو عام طور پر آبادی کے تناسب کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ ہر علاقے کی نمائندگی مناسب انداز میں ہو۔ حلقہ بندی کمیشن اپنی سفارشات تیار کرتا ہے، جس کے بعد پارلیمنٹ کی منظوری سے ان پر عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے کئی نشستوں کی حدود تبدیل ہو سکتی ہیں اور سیاسی طاقت کا توازن بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت لوک سبھا کی نشستوں میں تقریباً 50 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس میں 33 فیصد نشستیں خواتین کے لیے محفوظ رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ تاہم نشستوں میں اضافہ تمام ریاستوں میں یکساں نہیں ہوگا، بلکہ آبادی کے لحاظ سے مختلف ریاستوں میں نشستوں کی تعداد میں فرق آ سکتا ہے۔

تخمینوں کے مطابق اتر پردیش کی لوک سبھا نشستیں موجودہ 80 سے بڑھ کر تقریباً 120 ہو سکتی ہیں، جبکہ تلنگانہ کی نشستیں 17 سے بڑھ کر 26 تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اسی طرح شمالی ریاستوں کو مجموعی طور پر 200 سے زائد اضافی نشستیں مل سکتی ہیں، جبکہ جنوبی ریاستوں کی نشستیں 129 سے بڑھ کر تقریباً 195 تک جا سکتی ہیں۔ اس سے پارلیمنٹ میں طاقت کا توازن ہندی بولنے والی ریاستوں کی جانب جھکنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جنوبی ریاستوں کی جانب سے اس تجویز پر خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ ان ریاستوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے خاندانی منصوبہ بندی پر بہتر عمل کیا اور آبادی کی شرح نمو کو قابو میں رکھا، جبکہ شمالی ریاستوں میں آبادی میں اضافہ زیادہ رہا۔ ایسے میں اگر نشستیں صرف آبادی کی بنیاد پر بڑھائی جائیں گی تو جنوبی ریاستوں کی سیاسی نمائندگی کم ہو سکتی ہے۔

سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ جئے رام رمیش نے اس تجویز پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے علاقائی توازن متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ مختار عباس نقوی نے اسے متوازن نمائندگی کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔ اسی دوران لوک سبھا کی نشستوں میں ممکنہ اضافے نے ملک بھر میں سیاسی جماعتوں کو نئی حکمت عملی بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر نشستوں میں اضافہ ہوتا ہے تو حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت کا ہندسہ بھی بڑھے گا، جس سے وزیر اعظم کے انتخاب کا پورا حساب تبدیل ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر حلقہ بندی بل کو آئندہ برسوں میں ملکی سیاست کا اہم ترین موضوع قرار دیا جا رہا ہے۔ نمائندگی، علاقائی توازن اور سیاسی طاقت کی نئی تقسیم کے سوالات کے ساتھ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید بحث کا مرکز بننے والا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read