Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court on Presidential Reference Case: سپریم کورٹ نے پریسڈینشیل ریفرنس کیس میں چار ہفتے میں فیصلہ سنانے کا دیا اشارہ ، چیف جسٹس بی آر گوئی کے ریٹائرمنٹ سے پہلے ہوگا فیصلہ

سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے پریسڈینشیل ریفرنس سے متعلق کیس میں چار ہفتوں کے اندر فیصلہ سنانے کا اشارہ دیا ہے۔ یہ معاملہ صدر  جمہوریہ اور گورنروں کے آئینی اختیارات سے متعلق ہے، جس پر عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔

سپریم کورٹ نے اشارہ دیا ہے کہ پریسڈینشیل ریفرنس سے متعلق کیس میں چار ہفتوں کے اندر فیصلہ سنایا جائے گا۔ چیف جسٹس بی آر گوئی نے چار ہفتوں میں فیصلہ دینے کا اشارہ دیا ہے۔ وہ 23 نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ اس بینچ میں چیف جسٹس بی آر گوئی کے علاوہ جسٹس سوری کانت، جسٹس وکرمناتھ، جسٹس پی ایس نرسمہ اور جسٹس اتل ایس چندُرکر شامل ہیں۔

سپریم کورٹ سیاسی معاملات کا حل نکالنے والا ماسٹر نہیں

سماعت کے دوران مرکزی حکومت اور گورنروں کی جانب سے پیش سولیسٹر جنرل تشار مہتا نے صدر  جمہوریہ  اورگورنروں کے لیے بل پر فیصلہ کرنے کے لیے مقرر کردہ وقت کی مخالفت کی ہے۔ سولیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ سپریم کورٹ کو صرف آئین کی تشریح تک محدود رہنا چاہیے اور یہ سیاسی معاملات کا حل نکالنے والا ماسٹر نہیں ہے۔ مہاراشٹرا حکومت کی جانب سے پیش سولیسٹر جنرل نے کہا کہ صرف گورنر اور صدر جمہوریہ ہی بل کو منظوری دے سکتے ہیں، عدالتیں بل کی منظوری نہیں دے سکتیں۔

گوا اور پڈوچیری حکومت کا جواب

مرکزی حکومت نے اپنے تحریری جواب میں کہا ہے کہ گورنر اور صدر جمہوریہ،کا بلوں پر فیصلہ کرنا ایک اعلیٰ آئینی ذمہ داری ہے اور عدالتیں اس میں براہِ راست مداخلت نہیں کر سکتیں۔ آئین کے آرٹیکل 200 اور 201 میں گورنر اور صدر جمہوریہ کو بل پر دستخط کرنے، روکنے یا صدر جمہوریہ کے پاس ارسال کرنے کے چار اختیارات دیے گئے ہیں۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا کہ آئین نے جان بوجھ کر اس میں کوئی وقت کی حد مقرر نہیں کی تاکہ وہ مکمل آئینی جائزہ لے کر فیصلہ کر سکیں۔ دوسری طرف گوا اور پڈوچیری حکومتوں نے لکھے گئے جواب میں کہا ہے کہ آرٹیکل 142 (جو سپریم کورٹ کو خصوصی اختیارات دیتا ہے) کے تحت بھی عدالتیں گورنر کی جگہ خود بل کو منظور نہیں کر سکتیں۔ ریاستوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ عدالت صرف یہ اعلان یا درخواست کر سکتی ہے کہ گورنر کو جلد از جلد بل پر فیصلہ کرنا چاہیے، لیکن وہ خود گورنر کا کردار ادا نہیں کر سکتی۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا کہ عدالت آئین میں ترمیم نہیں کر سکتی یا آئین سازوں کی نیت کو ناکام نہیں بنا سکتی، جب تک کہ آئینی بینچ میں کوئی ایسا خصوصی حکم نہ ہو۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read