Bharat Express DD Free Dish

Kharge Vs Nadda: پارلیمنٹ میں کھڑگے کے بیان پر ہنگامہ، کہا- ہم ٹھیک سے ٹھوکیں گے، فوراً سیٹ سے کھڑے ہو گئے نڈا، کہی یہ بات

راجیہ سبھا کی کارروائی شروع ہونے کے بعد ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نارائن نے مرکزی وزیر رونیت سنگھ بٹو کا نام لیا اور ان سے دستاویز ایوان میں رکھنے کو کہا، لیکن مرکزی وزیر ایوان میں موجود نہیں تھے۔ اس پر اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وزیر کی غیر حاضری شرمناک ہے۔

پارلیمنٹ میں کھڑگے کے بیان پر ہنگامہ

نئی دہلی: منگل (11 مارچ) کے روز راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے اور بی جے پی صدر جے پی نڈا کے درمیان بحث ہوئی۔ ڈپٹی اسپیکر نے کھڑگے  کو بولنے سے روکا تو انہوں نے کہا کہ یہاں تاناشاہی چل رہی ہے۔ اس پر جب انہیں دوبارہ چیئر کی طرف سے روکا گیا تو کھڑگے  نے کہا کہ کیا کیا ٹھوکنا ہے، ہم ٹھیک سے ٹھوکیں گے۔ حکومت کو ٹھوکیں گے۔ جے پی نڈا نے اسے چیئر کی توہین قرار دیا۔

جے پی نڈا نے کہا، ’’یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ اپوزیشن کے موجودہ لیڈر، جن کا اسمبلی اور پارلیمنٹ میں طویل اور تجربہ کار دور رہا ہے، جنہوں نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پارٹی کی قیادت کی ہے۔ انہوں نے اس قسم کی زبان استعمال کی۔ یہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ چیئر کے خلاف استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول ہیں۔ وہ قابل معافی نہیں ہے۔ پھر بھی ایل او پی کو معافی مانگنی چاہیے اور اپنے الفاظ واپس لینا چاہیے۔‘‘

کھڑگے  نے چیئر سے کی معذرت

ایوان میں ہنگامہ بڑھنے کے بعد ملکارجن کھڑگے  نے چیئر سے معافی مانگ لی۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ مجھے افسوس ہے۔ میں نے آپ کے لیے بات نہیں کی۔ میں نے حکومت کے لیے بات کی ہے۔ اگر آپ کو میری باتوں سے تکلیف پہنچی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔ میرا کہنا ہے کہ اس ملک کے ایک حصہ کے لیے اگر آپ عزت نفس کو مجروح کرنے کی بات کریں گے کہ و مہذب نہیں ہیں تو آپ کو وزیر کا استعفیٰ طلب کرنا چاہیے۔ وہ ملک کو تقسیم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

’’حکومت کے بارے میں جو بولا، وہ بھی قابل مذمت‘‘

قائد ایوان نے کھڑگے  کی معافی کو قابل ستائش قرار دیا۔ نڈا نے کہا کہ انہوں نے حکومت کے بارے میں جو الفاظ استعمال کیے وہ بھی قابل مذمت ہیں۔ انہیں پارلیمانی کارروائی سے ہٹایا جانا چاہیے۔

راجیہ سبھا کی کارروائی شروع ہونے کے بعد ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نارائن نے مرکزی وزیر رونیت سنگھ بٹو کا نام لیا اور ان سے دستاویز ایوان میں رکھنے کو کہا، لیکن مرکزی وزیر ایوان میں موجود نہیں تھے۔ اس پر اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وزیر کی غیر حاضری شرمناک ہے۔ کھڑگے  نے کہا کہ قائد ایوان نے پیر کے روز مشورہ دیا تھا کہ قائد حزب اختلاف اور اپوزیشن کے ارکان کو ایوان کے قواعد پر تربیت دی جانی چاہئے۔ کھڑگے  نے کہا، ’’میں آپ سے پوچھتا ہوں۔ آپ تربیت کیوں نہیں لیتے؟ آپ کے لوگ وقت پر نہیں آتے۔ وزیر بھی نہیں آتے۔ یہ بہت شرم کی بات ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read