Bharat Express DD Free Dish

Karnataka Politics: ’’پوری مدکار میں ہی مکمل کروں گا، کسی 2.5 سالہ ڈیل کی بات نہیں‘‘… وزیراعلیٰ سدھارامیا کا بڑا بیان

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدھارامیا نے وزیر اعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ کسی قسم کا 2.5 سالہ سمجھوتہ نہیں ہوا تھا اور وہ اپنی حکومت کی پوری مدت مکمل کریں گے۔

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدھارامیا نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ ریاست میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق کوئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنا پورا پانچ سالہ دورِ حکومت مکمل کریں گے اور پارٹی ہائی کمان کی مکمل حمایت ان کے ساتھ ہے۔

پاور شیئرنگ معاہدے سے انکار

گزشتہ کئی مہینوں سے یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ کانگریس حکومت بننے کے وقت یہ طے پایا تھا کہ پہلے ڈھائی سال سدھارامیا اور باقی مدت ڈی کے شیوکمار وزیر اعلیٰ رہیں گے۔ تاہم سدھارامیا نے بیلگاوی میں اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے آخری دن اس طرح کے کسی بھی معاہدے کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ ڈھائی سال کا کوئی معاہدہ کبھی ہوا ہی نہیں۔

ہائی کمان کا فیصلہ اہم

سدھارامیا نے دہرایا کہ جب تک پارٹی ہائی کمان کوئی دوسرا فیصلہ نہیں کرتی، وہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2028 تک کانگریس دوبارہ اقتدار میں آئے گی اور وہ اپنا پورا ٹرم مکمل کریں گے۔

شیوکمار خیمے کی ناراضگی

ڈی کے شیوکمار کے حامی اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ 2023 میں حکومت بننے کے وقت ڈھائی ڈھائی سال کی ڈیل طے ہوئی تھی۔ اسی معاملے پر کئی اراکین اسمبلی دہلی جا کر ہائی کمان سے بھی ملے تھے۔ خود شیوکمار نے بھی اشارے دیے تھے کہ وہ جلد ہی ریاستی صدر کے عہدے سے دستبردار ہو سکتے ہیں۔

ملاقاتوں سے قیاس آرائیاں تیز

اس تنازع کو کم کرنے کے لیے پارٹی قیادت نے دونوں لیڈروں سے بات چیت کی تھی۔ اس کے بعد سدھارامیا اور شیوکمار کے درمیان دو بار ناشتہ پر ملاقاتیں بھی ہوئیں، جس سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ معاملہ سلجھ گیا ہے۔ تاہم سدھارامیا کے تازہ بیان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ سیاسی گہماگہمی ابھی برقرار ہے۔ کرناٹک کانگریس میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کو لے کر رسہ کشی ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ سدھارامیا کے بیان نے ایک بار پھر ریاستی سیاست میں ہلچل تیز کر دی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read