Bharat Express DD Free Dish

Karauli bulldozer action: اب کراولی میں انتظامیہ کی یہ کارروائی! فسادات کا ملزم قرار دیکر امین الدین خان کے کمپلیکس پر چلایا بلڈوزر

راجستھان کے کراولی میں 2 اپریل 2022 کے فسادات کے ملزم امین الدین خان کے تجارتی کمپلیکس کو غیر قانونی قرار دیکر انتظامیہ نے بلڈوزر چلا دیا۔

راجستھان کے کراولی ضلع میں انتظامیہ نے منگل کو بڑا ایکشن لیتے ہوئے امین الدین خان کے  تجارتی کمپلیکس کو منہدم کر دیا۔ امین الدین خان کو 2 اپریل 2022 کے فسادات کا ملزم  مانا گیا ہے ، ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ  وہ ضلع میں سب سے بڑے آن لائن سٹہ نیٹ ورک کے آپریٹر ہیں۔ یہ کمپلیکس امبیڈکر سرکل کے نزدیک تعمیر کیا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ تعمیر کے دوران ایک پرانا شِو مندر توڑ دیا گیا تھا، جبکہ زمین کے پٹّوں کی قانونی حیثیت بھی مشکوک پائی گئی۔ اس معاملے کی شکایت سماجی کارکن اشوک پاٹھک نے کی تھی، جس کے بعد پولیس سپرنٹنڈنٹ لوکیش سونوال نے تفصیلی جانچ کرائی۔ جانچ رپورٹ میں پٹّوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔

یوگی اسٹائل کارروائی کی یاد

جیسے ہی انتظامیہ نے بلڈوزر چلا کر اس تعمیر کو ملبے میں تبدیل کیا، شہریوں کو اتر پردیش کی مشہور’’یوگی اسٹائل‘‘  کارروائی یاد آ گئی۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ کراولی میں پہلی بار کسی فساد کے ملزم کی جائیداد پر اس طرح کی سخت کارروائی کی گئی ہے۔

فسادات سے متعلق معاملہ

یہ کارروائی اس پس منظر میں ہوئی ہے جب نَو سموتسر بائیک ریلی کے دوران کراولی میں پتھراؤ اور تشدد ہوا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے امین الدین خان پر کئی سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ انتظامیہ نے اب تک کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ان کی مبینہ غیر قانونی تعمیر کو مکمل طور پر زمین بوس کر دیا۔

یہ کہنا ہے افسران کا

 کراولی نگر پریشد کے کمشنر پریم راج مینا نے بتایا کہ جب عمارت کی جانچ کی گئی تو غیر قانونی تعمیر پائی گئی۔ اس کے بعد نگر پریشد انتظامیہ نے دو پٹّوں کو منسوخ کر دیا اور اب غیر قانونی تعمیر کو ہٹانے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ  معاملہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے اس سے پہلے انتظامیہ کی  جانب سے اس کارروائی کو انجام دے گیا ۔ بہرحال اب یہ قانون کے جانکار ہی بتا سکیں گے عدالتی سماعت مکمل ہونے سے قبل اس قسم کی کارروائیاں  کتنی درست ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read