Bharat Express DD Free Dish

Kamal Haasan meets PM Modi: کمل ہاسن نے پی ایم مودی سے کی ملاقات، تمل تہذیب و ثقافت کے حوالے سے کیا تبادلۂ خیال

کیلاڈی تمل ناڈو کے شیوا گنگائی ضلع میں واقع ایک اہم آثار قدیمہ کی جگہ ہے۔ کمل ہاسن نے وزیر اعظم سے اس کو بطور آثار قدیمہ تسلیم کرنے کی درخواست کی۔

راجیہ سبھا ایم پی اور اداکار کمل ہاسن نے جمعرات کو نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران کمل ہاسن نے تمل تہذیب کی عظمت اور تمل زبان کی لازوال شان کو دنیا کے سامنے دکھانے کے لیے پی ایم مودی سے تعاون طلب کیا۔ کمل ہاسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس ملاقات کی تصویر بھی شیئر کی۔

تصویر شیئر کرتے ہوئے کمل ہاسن نے لکھا کہ ’’آج مجھے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ تمل ناڈو کے عوام کے نمائندے اور ایک فنکار کے طور پر، میں نے ان کے سامنے کچھ گزارشات رکھی، جن میں سب سے اہم ’کیلاڈی‘ تھا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’میں نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ وہ ان تمل لوگوں کی کوششوں کی حمایت کریں جو تمل تہذیب کی عظمت اور تمل زبان کی قدیمی کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ کیلاڈی تمل ناڈو کے شیوا گنگائی ضلع میں واقع ایک اہم آثار قدیمہ کی جگہ ہے۔ کمل ہاسن نے وزیر اعظم سے اس کو بطور آثار قدیمہ تسلیم کرنے کی درخواست کی۔ واضح رہے کہ فلم اداکار اور سیاست دان کمل ہاسن نے 25 جولائی کو راجیہ سبھا میں رکن پارلیمنٹ کے طور پر حلف لیا تھا۔ ہاسن نے تمل زبان میں حلف لیتے ہوئے اپنی ثقافتی جڑوں اور شہری وابستگی پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’بطور ہندوستانی، میں اپنا فرض ادا کروں گا۔‘‘ کمل ہاسن کی راجیہ سبھا نامزدگی کی تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن اور دیگر سینئر لیڈروں نے تائید کی اور وہ 12 جون کو بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read