نئی دہلی – ہندوستان کے معروف تعلیمی ادارے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) نے ترکیہ کی اینونُو یونیورسٹی کے ساتھ طے پانے والا تعلیمی معاہدہ “قومی سلامتی کے خدشات” کی بنیاد پر منسوخ کر دیا ہے۔
جے این یو نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا: ’’ قومی سلامتی کے تحفظات کی وجہ سے، JNU اور Inonu یونیورسٹی، Türkiye کے درمیان مفاہمت نامے کو اگلے نوٹس تک معطل کر دیا گیا ہے۔ جے این یو قوم کے ساتھ کھڑا ہے۔ ‘‘
Due to National Security considerations, the MoU between JNU and Inonu University, Türkiye stands suspended until further notice.
JNU stands with the Nation. #NationFirst @rashtrapatibhvn @VPIndia @narendramodi @PMOIndia @AmitShah @DrSJaishankar @MEAIndia @EduMinOfIndia— Jawaharlal Nehru University (JNU) (@JNU_official_50) May 14, 2025
یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق، یہ مفاہمتی یادداشت (MoU) تین فروری 2025 کو طے پایا تھا اور اسے 2 فروری 2028 تک جاری رہنا تھا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکیہ کے سرکاری میڈیا چینل TRT World کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھارت نے پروپیگنڈہ اور غلط معلومات پھیلانے پر بلاک کر دیا ہے۔ ساتھ ہی بھارت میں ترکیہ اور آذربائیجان کے خلاف عوامی غم و غصے میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ آپریشن سندور کے بعد پاکستان کی حمایت پر مبنی موقف سے متعلق ہے۔
یاد رہے کہ 22 اپریل کو پاہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے ردِعمل میں بھارت نے 7 مئی کو “آپریشن سندور” کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا، جس میں بڑی تعداد میں دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
ترکیہ کی پاکستان نوازی کے بعد بھارت میں ترکیہ اور آذربائیجان کا سیاحتی بائیکاٹ زوروں پر ہے۔ معروف آن لائن ٹریول پورٹل MakeMyTrip اور EaseMyTrip نے ترکیہ جانے والی بکنگز میں واضح کمی اور وسیع پیمانے پر منسوخی کی تصدیق کی ہے۔
MakeMyTrip نے ایک بیان میں کہا: “ہم اپنی مسلح افواج کے لیے گہری عزت اور ملک کے ساتھ یکجہتی کے طور پر ترکی اور آذربائیجان کے لیے تمام غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم نے ان دونوں ممالک کے لیے اپنی تمام پروموشنز اور آفرز بند کر دی ہیں۔”
یہ پیش رفت بھارت کے اس مضبوط پیغام کا حصہ ہے جس کے تحت قومی مفادات کو نقصان پہنچانے والی قوتوں کے ساتھ تعلیمی، سفارتی اور تجارتی تعلقات پر نظر ثانی کی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



