JNU Controversy: ”نفرت کی تجربہ گاہ نہیں بنے گا جے این یو“، دیر رات نعرے بازی پر انتظامیہ سخت، طلبہ کے خلاف کارروائی کے اشارے
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) ایک بار پھر تنازع کی زد میں آ گئی ہے۔ دیر رات مبینہ طور پر اشتعال انگیز اور قابلِ اعتراض نعرے لگانے کے معاملے پر یونیورسٹی انتظامیہ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کیمپس کو کسی بھی صورت نفرت کی تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث طلبہ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
JNU Suspends Agreement With Turkey University: قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر جواہر لال نہرو یونیورسٹی نے ترکیہ کی یونیورسٹی سے معاہدہ منسوخ کر دیا
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکیہ کے سرکاری میڈیا چینل TRT World کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھارت نے پروپیگنڈہ اور غلط معلومات پھیلانے پر بلاک کر دیا ہے۔ ساتھ ہی بھارت میں ترکیہ اور آذربائیجان کے خلاف عوامی غم و غصے میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ آپریشن سندور کے بعد پاکستان کی حمایت پر مبنی موقف سے متعلق ہے۔





