Bharat Express DD Free Dish

105th Foundation Day Of Jamia Millia Islamia : ”میں گاندھی کو صرف سنتا یا پڑھتا نہیں بلکہ گاندھی میں جیتا ہوں، میں چمپارن کا ہوں“: پروفیسر مظہر آصف

جامعہ ملیہ اسلامیہ کا 105واں یومِ تاسیس: ”مہاتما گاندھی کا سوراج“ پر بامعنی مذاکرہ، دوردرشن کے ڈائریکٹر جنرل کے ستیش نمبودری پاد مہمانِ خصوصی رہے۔

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنے 105ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ایک شاندار پروگرام کا انعقاد کیا۔ یہ خصوصی سیمینار جامعہ کے نیلسن منڈیلا سینٹر فار پیس اینڈ کانفلکٹ ریزولوشن کی جانب سے منعقد کیا گیا، جس کا عنوان تھا ”مہاتما گاندھی کا سوراج“۔ اس موقع پر دوردرشن کے ڈائریکٹر جنرل کے ستیش نمبودری پاد نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ پروگرام کی صدارت جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے کی۔ اس موقع پر متعدد اسکالروں اور ماہرین تعلیم نے مہاتما گاندھی کے نظریات اور ان کے سوراج کے تصور کی عصری معنویت پر اپنے خیالات پیش کیے۔

”سوراج خود پر قابو پانے اور اخلاقی تطہیر کا نام ہے“: کے ستیش نمبودری پاد
مہمانِ خصوصی کے ستیش نمبودری پاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے تاریخی اور تحریک انگیز ادارے میں بولنا اپنے آپ میں فخر کی بات ہے۔ انہوں نے کہا، “جامعہ صرف ایک یونیورسٹی نہیں بلکہ جدید ہندوستان کی تاریخ، ثقافت، ترقی اور امنگوں کی علامت ہے۔” انہوں نے کہا کہ ”سوراج صرف سیاسی آزادی نہیں بلکہ خود نظم، اخلاقیات اور اجتماعی بہبود کا مظہر ہے“۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کا مشہور قول نقل کیا کہ ”دنیا میں ہر ایک کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے، مگر کسی کے لالچ کے لیے نہیں“۔

ڈاکٹر نمبودری پاد نے بتایا کہ جب وہ نیشنل کونسل فار رورل انسٹیٹیوٹس (این سی آر آئی) میں سکریٹری جنرل تھے تو انہوں نے وردھا کا دورہ کیا جہاں انہیں گاندھیائی مفکرین نارائن دیسائی اور ڈاکٹر سدرشن ایینگر سے رہنمائی حاصل ہوئی۔ انہوں نے یجروید کے منتر ”وشوَ پُشٹم گرامے اَسمِن انا تورم” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “حقیقی سوراج متوازن دیہی خوشحالی اور انسانی ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے“۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں “آدرش پسندی بمقابلہ حقیقت پسندی”، “ترقی بمقابلہ اطمینان” اور “شہری زندگی بمقابلہ دیہی سادگی” کے تضادات میں گاندھی کا سوراج انسانیت کے لیے ایک اخلاقی راستہ پیش کرتا ہے۔

”میں گاندھی کو صرف پڑھتا نہیں بلکہ جیتا ہوں“ : پروفیسر مظہر آصف، وائس چانسلر جامعہ
پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر مظہر آصف نے کہا، “دنیا مہاتما گاندھی کو پڑھ کر اور سن کر جانتی ہے، لیکن میں گاندھی میں جیتا ہوں، کیونکہ میں چمپارن کا ہوں، جہاں سے گاندھی کے ستیاگرہ کی شروعات ہوئی تھی۔” انہوں نے کہا کہ “دو عظیم شخصیات — گاندھی اور چانکیہ — نے اپنے ساتھ ہوئے ظلم کو معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بنایا۔ گاندھی نے انگریزوں کو ہندوستان سے نکالا اور چانکیہ نے ظالمانہ حکومت کا خاتمہ کیا۔ دونوں نے اپنے غصے کو مثبت سمت میں بدلا“۔

پروفیسر آصف نے گاندھی کی سادگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک کی غربت دیکھ کر ساری زندگی ایک دھوتی میں گزاری۔ انہوں نے بتایا کہ مہاتما گاندھی نہ صرف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے حامی تھے بلکہ اس کے بانی معاونین میں سے ایک تھے۔ جب جامعہ مالی بحران سے گزر رہی تھی، تو گاندھی نے کہا تھا — “جامعہ کو چلنا ہی ہے، چاہے مجھے بھیک کیوں نہ مانگنی پڑے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ گاندھی کے صاحبزادے نے بھی ابتدائی دور میں جامعہ میں بطور استاد خدمات انجام دی تھیں۔

دیگر مقررین کے خیالات
افتتاحی خطاب میں رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے کہا کہ نیلسن منڈیلا سینٹر گاندھی کے اصولوں کو اپنی روح میں سموئے ہوئے ہے اور انہی اصولوں پر آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی کے سوراج کے نظریے پر عمل کر کے ہی ہندوستان حقیقی معنوں میں خود کفیل بن سکتا ہے۔ ڈین آف اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر نیلوفر افضل نے گاندھی کے “تعلیم، تہذیب اور طبیعت” کے نظریے پر روشنی ڈالی اور کہا کہ جامعہ کی اصل روح انہی قدروں میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے آنے والے چھ روزہ تعلیمی میلے (تعلّیمی میلہ) کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا۔

مہاتما گاندھی سینٹرل یونیورسٹی، موتیہاری کے سابق وائس چانسلر پروفیسر سنجیو کمار شرما نے کہا، “گاندھی ہونا آسان نہیں۔ گاندھی کی سب سے بڑی خوبی ان کی وسعتِ قلبی تھی — وہ اپنے ناقدین کا بھی احترام کرتے تھے، یہی ان کے سوراج کا کمال ہے۔” دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر سنجیو کمار نے جدید معاشرے کے تناظر میں گاندھی کے سوراج کے تصور کو ازسرِنو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

آغاز و اختتام
پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، اس کے بعد جامعہ کے طلبہ نے نہایت خوبصورت انداز میں جامعہ کا ترانہ پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر وینیش مریم نے انجام دی، جبکہ سہ کنوینر سدھانشو تریویدی نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ اختتام پر مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مہاتما گاندھی کے افکار آج بھی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ تقریب اس پیغام کے ساتھ ختم ہوئی کہ ”سوراج صرف حکومت کا تصور نہیں بلکہ خود پر حکومت، ضبطِ نفس اور اخلاقی زندگی کی جستجو ہے“۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read