ایشیا کپ 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے جذباتی مقابلے سے قبل جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (JKSA) نے ملک بھر میں زیر تعلیم کشمیری طلبا کے لیے ایک اہم مشورہ جاری کیا ہے، جس میں طلبا سے کہا گیا ہے کہ وہ اس میچ کو صرف ایک کھیل کے طور پر دیکھیں اور سوشل میڈیا پر ایسی کسی بھی پوسٹ سے گریز کریں جو تنازع کا سبب بن سکتی ہو۔ ایسوسی ایشن کے نیشنل کنوینر ناصر کھویہامی نے ایک بیان میں کہا کہ کشمیری طلبا کو اپنی تعلیم اور کیریئر پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے، کیوں کہ یہی ان کے گھروں سے دور آنے کا اصل مقصد ہے۔ انھوں نے یاد دلایا کہ ان طلبا کی تعلیم کے لیے ان کے اہلِ خانہ نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، کسی کے والد نے سخت محنت کی، کسی کے بھائی نے قرض لیا، کسی بہن نے اپنے زیور بیچے اور مائیں ہر لمحہ ان کی سلامتی کے لیے دعائیں کرتی ہیں۔
ناصر کھویہامی کے مطابق ماضی میں بھارت-پاکستان کرکٹ میچز کے دوران بعض کشمیری طلبا کو محض سوشل میڈیا سرگرمیوں یا بحث و مباحثے میں ملوث ہونے کی بنیاد پر حراست، گرفتاری یا مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ان کے تعلیمی مستقبل پر منفی اثرات پڑے۔ ایسے واقعات کو دہرانے سے بچنے کے لیے ایسوسی ایشن نے طلبا پر زور دیا کہ وہ جذبات پر قابو رکھیں اور میچ کو صرف کھیل کی حد تک محدود رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم طلبا کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر بحث، تبصرے یا کسی ایسی سرگرمی میں حصہ نہ لیں جو تنازع یا بدنظمی کا سبب بن سکتی ہو۔ کھیل کو کھیل کے جذبے سے دیکھیں اور کسی بھی غیر ضروری تنازع سے دور رہیں۔‘‘
ایسوسی ایشن نے اس میچ کے سیاسی اور جذباتی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی، خصوصاً پہلگام حملے کے پس منظر میں، جس کے بعد دو ایٹمی طاقتیں سخت کشیدگی کی دہلیز پر پہنچ گئی تھیں۔ ایسوسی ایشن کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کھیل ہمیں اتحاد، نظم و ضبط اور بھائی چارہ سکھاتے ہیں ’’یہ میچ تفریح کا ذریعہ ضرور ہے، لیکن یہ تفرقہ نہیں بلکہ ہم آہنگی کا سبب بننا چاہیے۔‘‘ ایسوسی ایشن نے طلبا سے اپیل کی کہ وہ اپنی حفاظت کو ترجیح دیں، جذباتی ردعمل سے گریز کریں اور ملک کے مختلف علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


