مرکزی وزیر اور ہندوستانی عوام مورچہ کے سربراہ جیتن رام مانجھی
جموئی: بہار حکومت کے کئی کمیشنوں کی تشکیل کے بعد شروع بیان بازیوں کا دور تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس دوران جموئی پہنچے مرکزی وزیر اور ہندوستانی عوام مورچہ کے سربراہ جیتن رام مانجھی نے آر جے ڈی صدر لالو یادو پر سخت نشانہ لگایا۔ انہوں نے اپنے انداز میں ایک کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’چلنی دوسے بڑھنی کے‘۔ یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھلنی میں ہزاروں سوراخ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے اپنی بیوی، بھابھی، بیٹی، بیٹے کو پروموٹ کرنے کا کام کیا وہ دوسروں پر بول رہے ہیں، کمیشن میں جو بھی گیا ہے، وہ اپنی میرٹ پر گیا ہے۔
’’شروع سے ہی دلت مخالف ہیں لالو یادو‘‘
انہوں نے پوچھا کہ تیجسوی یادو، تیج پرتاپ یادو کون الیکشن لڑے تھے؟ میسا بھارتی اور روہنی آچاریہ کون سی تحریک کی پیداوار ہیں؟ ان میں صرف یہ خوبی ہے کہ وہ لالو یادو کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو شرم آنی چاہیے۔ اس دوران انہوں نے اپنے بیٹے کی تعلیمی قابلیت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ لالو یادو شروع سے ہی دلت مخالف ہیں، یہی وجہ ہے کہ دلت کبھی ان کے ساتھ نہیں گئے۔
سیٹ کے تعلق سے این ڈی اے کرے گا فیصلہ
اسمبلی انتخابات میں سیٹ کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ این ڈی اے میں جو بھی فیصلہ ہوگا، وہ اسے قبول کریں گے۔ اس سے قبل مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر پوسٹ کرتے ہوئے اشاروں اشاروں میں لالو یادو کو گبر سنگھ کہا۔
جو خاندان کا نہیں وہ کسی کا نہیں: مانجھی
انہوں نے لکھا، ’’بھائی کو تو پہلے ہی گھر سے نکال دیا ہے، اب بہن اور بہنوئی کو باہر کرنے کے لیے ’داماد‘ کا مدعا اٹھایا جا رہا ہے، تاکہ آئندہ ’گبر سنگھ‘اگر اپنی بیٹی اور داماد کو کہیں سیٹ کرنے کی بات کہیں، تو یہ کہہ کر منع کر دیا جائے کہ ہم نے تو خود ہی ’داماد‘ کا مدعا اٹھا کر حکومت کو گھیرا تھا، اس لئے بیٹی اور داماد کو کسی بھی قیمت پر ایڈجسٹ نہیں کیا جائے گا۔‘‘ ان کا مزید کہا کہ جو خاندان کا نہیں وہ کسی کا نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



