سری نگر: جموں و کشمیر میں ’’یومِ شہداء‘‘ کے موقع پر سیاسی کشیدگی میں اس وقت نیا موڑ آیا جب ریاست کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو سری نگر کے قبرستان میں فاتحہ خوانی سے روکنے کی پولیس کوشش ناکام ہوگئی۔ عمر عبداللہ پولیس رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے مزار شہداء تک پہنچے اور فاتحہ ادا کی۔
پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
عمر عبداللہ نے اس واقعے کی ویڈیو خود سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی جس میں انہیں پولیس اہلکار روکنے کی کوشش کرتے نظر آرہے ہیں۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ کی پولیس سے نوک جھونک اور دھکا مکی ہوتی ہے، مگر وہ رکنے کے بجائے دیوار پھلانگ کر مزار میں داخل ہو جاتے ہیں۔
This is the physical grappling I was subjected to but I am made of sterner stuff & was not to be stopped. I was doing nothing unlawful or illegal. In fact these “protectors of the law” need to explain under what law they were trying to stop us from offering Fatiha pic.twitter.com/8Fj1BKNixQ
— Omar Abdullah (@OmarAbdullah) July 14, 2025
میں غیر قانونی کام نہیں کر رہا تھا — عمر عبداللہ
عمر عبداللہ نے پولیس پر مذہبی آزادی میں مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے کہا: ’’میں کوئی غیر قانونی عمل انجام نہیں دے رہا تھا، صرف فاتحہ پڑھنے آیا تھا۔ ان قانون کے خود ساختہ محافظوں کو یہ بتانا ہوگا کہ کس قانون کے تحت مجھے روکا گیا۔‘‘ انہوں نے واقعے کو ’’انتہائی مایوس کن اور تکلیف دہ تجربہ‘‘ قرار دیا۔
یہ پولیس کی منمانی ہے، ہم کسی کے غلام نہیں
عمر عبداللہ نے مزید کہا: ’’پولیس نے ہمارے دروازے کے باہر بنکر کھڑا کر دیا، ہمیں گھروں میں بند رکھا گیا۔ میں نے اس بار بغیر اطلاع کے نکلنے کا فیصلہ کیا اور جب پہنچا تو پھر ہمیں روکنے کی کوشش کی گئی۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’یہ ملک آزاد ہے، ہم کسی کے غلام نہیں۔ یہ قبریں یہیں رہیں گی، اور ہم جب چاہیں فاتحہ کے لیے آئیں گے۔‘‘
یومِ شہداء پر سیاسی ہلچل جاری
یومِ شہداء 13 جولائی کے موقع پر متعدد لیڈران کو نظربند یا گرفتار کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اپوزیشن لیڈران کا الزام ہے کہ حکومت جمہوری آوازوں کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔
سیاسی ردعمل کا امکان
اس واقعے کے بعد جموں و کشمیر کی سیاست میں مزید گرما گرمی کا خدشہ ہے۔ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، کانگریس اور دیگر علاقائی جماعتوں کی طرف سے حکومت کے خلاف سخت ردعمل کا امکان ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


