نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے آج صدردفترسے تعلیمی سال 2025-26 کے لئے میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے والے 1199 طلبہ کے لئے ایک کروڑ80 لاکھ روپے کے وظائف جاری کردیئے ہیں۔ قابل ذکرہے کہ ان طلبہ میں اس باربھی 65 غیرمسلم طلبہ شامل ہیں۔ وظائف کی رقم طلبہ کے اکاؤنٹ میں براہ راست منتقل کی جارہی ہے۔ واضح ہوکہ مالی طور پرکمزورمگرذہین بچوں کی اعلی اورپیشہ وارانہ تعلیم کے حصول میں مدد کرنے کے مقصد سے جمعیۃ علماء ہند اورایم ایچ اے مدنی چیریٹیبل ٹرسٹ 2012 سے ہرسال وظائف جاری کررہی ہے۔ اس کے لئے مولانا حسین احمد مدنی چیریٹیبل ٹرسٹ دیوبند، جمعیۃ علماء ہند ارشد مدنی پبلک ٹرسٹ کی جانب سے باضابطہ طورپرایک تعلیمی امدادی فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ تعلیم کے ماہرین پرمشتمل ایک کمیٹی بھی ہے، جوہرسال میرٹ کی بنیاد پروظائف کے لئے طلبہ کا انتخاب کرتی ہے۔
غورطلب بات یہ ہے کہ وظائف کے لئے مذہب کی کوئی قید نہیں ہے چنانچہ ہر سال ایک بڑی تعداد میں غیرمسلم طلبہ بھی اس کے لئے درخواستیں ارسال کرتے ہیں اوراگروہ میرٹ پرپورا اترتے ہیں توان کا بھی انتخاب کسی تفریق کے بغیروظائف کے لئے ہوتا ہے۔ اس سال سب سے زیادہ 65 ایسے غیرمسلم بچوں کا انتخاب ہوا ہے جومیرٹ پرپورا اترتے ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند مذہب کی بنیاد پرکوئی کام نہیں کرتی بلکہ وہ جوکچھ کرتی ہے انسانیت کی بنیاد پرکرتی ہے، اس کے پیچھے ایک ہی مقصد کارفرما ہے کہ غربت اورمالی پریشانی کی وجہ سے ذہین بچے کسی رکاوٹ کے بغیراپنا تعلیمی سفرجاری رکھ سکیں۔
نوجوان نسل کے تعلیم یافتہ ہونے سے قومیں عروج پر پہنچتی ہیں: مولانا ارشد مدنی
اس موقع پرصدرجمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ دوراندیش قومیں اپنی تاریخ سیاست سے نہیں تعلیم سے مرتب کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا میں وہی قومیں عروج کی منزلیں طے کرتی ہیں، جن کی نوجوان نسل تعلیم یافتہ ہوتی ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ملک کی آزادی کے بعدہم بحیثیت قوم تاریخ کے انتہائی نازک موڑپرآکھڑے ہوئے ہیں۔ ہمیں ایک طرف طرح طرح کے مسائل میں الجھایا جارہا ہے تودوسری طرف ہم پر اقتصادی ،سماجی، سیاسی اورتعلیمی ترقی کی راہیں بند کی جارہی ہیں۔ اس سازش کواگرہمیں ناکام کرنا ہے اورسربلندی حاصل کرنا ہے توہمیں اپنے بچے اوربچیوں کے تعلیمی ادارے خود قائم کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ قومو ں کی تاریخ شاہد ہے کہ ہردورمیں ترقی کی کنجی تعلیم رہی ہے۔ اس لئے ہم ایک بار پھر قوم کے مخیراورصاحب حیثیت افرادسے ایہ اپیل کریں گے کہ وہ آگے بڑھ کربچوں اوربچیوں کے لئے الگ الگ تعلیمی ادارے قائم کریں، جہاں وہ کسی ڈراورخوف کے بغیر اپنی مذہبی شناخت اوراسلامی تربیت کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکیں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے، اس کے لئے ہمیں اپنی سوچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اس طرح کے تعلیمی اداروں کوایک مثالی ادارہ بنانے کی کوشش ہونی چاہئے تاکہ ان میں غیرمسلم والدین بھی اپنے بچوں اوربچیوں کوپڑھانے پرمجبورہوجائیں، اس سے نہ صرف باہمی میل جول اوربھائی چارہ میں اضافہ ہوگا بلکہ ان غلط فہمیوں کا بھی خاتمہ ہوجائے گا، جومسلمانوں کے خلاف فرقہ پرست عناصرکی طرف سے منصوبہ بند طریقہ سے مسلسل پھیلائی جارہی ہیں۔ اسی منصوبے کے تحت مدنی چیریٹیبل ٹرسٹ کے زیرانتظام منظم طریقے سے بچوں اوربچیوں کے علاحدہ اسکول، آئی ٹی آئی کالج، بی ایڈ کالج اورلا کالج چلائے جارہے ہیں اوراس کے حوصلہ افزا نتائج بھی آرہے ہیں۔ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ گھربیٹھے کوئی انقلاب نہیں آتا، تاریخ شاہد ہے جوقوم اپنی شناخت، تہذیب اورمذہب کے ساتھ زندہ رہنا چاہتی ہے اسے قربانی دینی پڑتی ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اس وقت ملک کے حالات اس قدرتشویشناک ہیں خاص طورپراقتدارکی تبدیلی کے بعد یکے بعد دیگرے جو واقعات پیش آرہے ہیں اس سے اب اس میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا کہ ہندوستان فسطائیت کی گرفت میں چلا گیا ہے جہاں نفرت کوحب الوطنی کا لبادہ پہنایا جارہا ہے اورظالموں اورفرقہ پرستوں کو قانون کی زد سے بچایا جارہا ہے، ملک میں فرقہ واریت کی آگ میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ملک کا وجود جھلس رہا ہے۔
یوپی ایس سی میں 53 مسلم نوجوانوں کی شاندارکامیابی پراظہارمسرت
مولانا ارشد مدنی نے اس سال یوپی ایس سی میں 53 مسلم نوجوانوں کی شاندارکامیابی پراپنی مسرت کا اظہارکرتے ہوئے اسے ایک بڑی پیش رفت قراردیا اورکہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری قوم کے بچے نا مساعد حالات میں بھی اب پورے جوش وخروش کے ساتھ پیشہ وارانہ ہی نہیں مسابقتی تعلیم میں بھی اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں ۔اس بارٹاپ100 میں 4 مسلم بچے بھی شامل ہیں۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ان بچوں نے یہ کامیابی تب حاصل کی ہے، جب ان پرتعلیم اورآگے بڑھنے کی راہیں کٹھن کی جارہی ہیں۔ مولانا آزاد فاونڈیشن سمیت مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لئے چلائی گئی تمام اہم اسکیمیں بند کی جا چکی ہیں اورتعلیمی اداروں میں ان کے ساتھ امتیازبھی برتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگران رکاوٹوں کے بعد بھی مسلمانوں میں تعلیم کا تناسب بڑھا ہے تو یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہی نہیں بلکہ مسلمانوں میں تعلیم کے حوالے سے آنے والی ایک بڑی تبدیلی کا ثبوت بھی ہے۔مسلمان مجموعی طورپراقتصادی پسماندگی کا شکار ہیں، یہی وجہ ہے کہ مختلف رپورٹوں میں اس بات کا خلاصہ ہوا ہے کہ بہت سے مسلم بچے درمیان میں ہی تعلیم چھوڑدیتے ہیں کیوں کہ ان کے والدین تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کے اہل نہیں ہوتے۔ اس افسوسناک حقیقت کا انکشاف برسوں پہلے سچرکمیٹی اپنی رپورٹ میں بھی کرچکی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ انکشاف بھی موجود ہے کہ ملک میں مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بدترہے۔ اس عرصہ میں مسلمانوں کی اقتصادی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ 2014 کے بعد تو یہ مزید ابترہوگئی ہے۔ ایسے میں یوپی ایس سی جیسے اہم اور بڑے مسابقتی امتحان میں 53 مسلم نوجوانوں کی کامیابی ایک طرح سے اجتماعی ملی بیداری کا روشن استعارہ ہے۔ ان میں سے کئی امیدوارتوایسے ہیں، جنہوں نے مالی تنگی، محدود وسائل کے باوجود اپنی ہمت اورلگن کی بنیاد پریہ سنگ میل عبور کیا ہے۔ مولانا مدنی کہا کہ ان بچوں نے اپنی جدوجہد اورکامیابی سے یہ ثابت کردیا ہے کہ مسلمان تمام ترسازشوں اورامیتازکے باوجود ملک کے قومی دھارے میں شامل ہیں،ان میں بے پناہ صلاحتیں موجود ہیں اوراگرانہیں مساوی مواقع میسر ہوں تو یہ لوگ کامیابی کی ہروہ منزل حاصل کرسکتے ہیں جس کا ہم تصورکرتے ہیں۔
مسلمانوں سے متعلق غلط فلمی پھیلاتی ہیں فرقہ پرست طاقتیں: مولانا مدنی
انہوں نے کہا کہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اگرمسلمان کسی شعبے میں آگے بڑھتا ہے توبے لگام فرقہ پرست طاقتیں اسے متنازعہ بنانے کی سازشیں کرنے لگتی ہیں۔غلط بیانی کو سچ مان لیا جاتا ہے اور میڈیا ٹرائل کے ذریعہ ان کے حوصلوں کوپست کرنے کی ہرممکن کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرح کا ماحول ہمارے نوجوانوں میں مایوسی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ہم نے اسی تناظر میں کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ ایک مسلمان ممدانی امریکہ کے نیو یارک شہرکا میئربن سکتا ہے، لند ن میں ایک خان میئربن جاتا ہے، لیکن ہمارے اپنے ملک میں ایک مسلمان کواپنی قائم کردہ یونیورسیٹی کا چانسلربننے میں بھی حد درجہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیوں فرقہ پرست طاقتیں کسی مسلمان کی ترقی کو برداشت کرنے پرتیارنہیں ہیں اوراگرکوئی اس مقام تک پہنچ بھی جاتا ہے، تومختلف الزامات اورمقدمات کے ذریعہ اسے اعظم ، اقبال اورجاوید کی طرح جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ان افسوسناک حقائق کے بعد بھی اگرلگن سچی ہوتوکوئی بھی رکاوٹ ہماری راہ دیوارنہیں بن سکتی۔ ہماری نوجوان نسل مالی تنگی، خوف ودہشت کے ماحول اورمذہبی امتیازکے بعد بھی کامیابی کی نئی عبارت لکھ رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ قوم جب بیدار ہوتی تو دنیا کو نئی سمت دکھاتی ہے۔آج کے حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلمان اتحاد، علم اورجدوجہد کا راستہ اختیارکریں کیوں یہی وہ راستہ ہے، جوانہیں عزت، کامیابی اورروشن مستقبل کی طرف لے جاسکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



