Bharat Express DD Free Dish

Jamiat Ulema-e-Hind allocates huge amount for Assam Flood Victims: جمعیۃ علماء ہند اورجمعیۃ علماء آسام نے سیلاب متاثرین کے لئے مختص کی بڑی رقم، مولانا ارشد مدنی نے کیا بڑا اعلان

سروے کے دوران ایسے یتیم اور بے سہارا بچے بھی سامنے آئے ہیں جن کی تعلیم سیلاب اور گھریلو حالات کے باعث متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ابتدائی طورپر2 بچوں کی دوسالہ تعلیمی کفالت کی ذمہ داری لی گئی ہے اور انہیں فی بچہ دو ہزارروپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے، تاکہ مالی مشکلات کے باعث ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔ اس کے ساتھ تقریباً پانچ لاکھ روپے مالیت کی کتابیں ایک ہزار بچوں میں تقسیم کی گئی ہیں تاکہ سیلاب سے متاثرہونے والے طلبہ کی تعلیم کو دوبارہ معمول پرلانے میں مدد مل سکے۔

نئی دہلی/آسام: بالائی آسام میں تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والے ہزاروں افراد اورخاندانوں کی فوری امداد اورمستقل بازآبادکاری کے لیے جمعیۃ علماء ہند اورجمعیۃ علماء آسام کی جانب سے بڑے پیمانے پر امدادی و بازآبادکاری مہم جاری ہے۔ یہ مہم صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی خصوصی ہدایت وسرپرستی اورصدرجمعیۃ علماء آسام مولانا مشتاق عنفرکی نگرانی میں سیلاب کے ابتدائی دنوں ہی سے جاری ہے۔ اس جامع مہم کے تحت غذائی اور گھریلو امداد کی فراہمی کے ساتھ متاثرہ علاقوں کا گھر گھر سروے، نقصانات کی درجہ بندی، مستحق خاندانوں کو براہِ راست مالی تعاون، جاں بحق افراد کے اہل خانہ کی خصوصی مدد، یتیم بچوں کی تعلیمی کفالت اورمتاثرہ خاندانوں کی مستقل بازآبادکاری کا کام کیا جارہا ہے۔ بالائی آسام کے سیلاب نے بڑی تعداد میں خاندانوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ متعدد مکانات، گھریلوسامان اورذرائع معاش تباہ ہوگئے ہیں، جس کے نتیجے میں متاثرین کے سامنے فوری ریلیف کے ساتھ مستقبل کی بازآبادکاری کا بھی سنگین مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔

صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے بالائی آسام میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پرگہرے رنج وافسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہم مالکِ کائنات کے بندے ہیں اوراس کے ہر فیصلے پرسرِتسلیم خم کرتے ہیں، کیونکہ بندگی کا تقاضا یہی ہے۔ وہی ہرپریشانی کا حقیقی مداوا کرنے والا ہے، تاہم اسباب کے درجے میں جمعیۃ علماء ہند، اس کے خدام اوراس کی شاخیں اپنی استطاعت بھرمولانا مشتاق عنفرکی نگرانی میں متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی مصیبت یہ پوچھ کر نہیں آتی کہ کون ہندوہے اورکون مسلمان۔ جب قدرتی آفت آتی ہے توسب کواپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔ بالائی آسام کے متاثرین میں بھی مختلف مذاہب، ذاتوں اوربرادریوں کے لوگ شامل ہیں اور جمعیۃ علماء ہند بلا تفریق مذہب و ملت سب کی مدد کررہی ہے۔ یہی انسانیت کا تقاضا ہے اوریہی ہمیں ہمارا مذہب اسلام بھی سکھاتا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی ایک طویل تاریخ ہے کہ اس نے قدرتی آفات، فسادات اورانسانی بحرانوں میں بلا تفریق مذہب وملت متاثرین کی مدد کی ہے۔ بالائی آسام میں بھی ہمارا مقصد محض چند دن کا راشن تقسیم کرنا نہیں بلکہ ان خاندانوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پرکھڑا کرنا ہے جن کے گھر، سامان اورزندگی کے وسائل سیلاب نے تباہ کردیے ہیں۔

متاثرہ خاندانوں کے نقصانات کا باقاعدہ سروے

صدر جمعیۃ علماء آسام مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ امدادی کام کو محض فوری راشن اورضروری سامان کی تقسیم تک محدود نہیں رکھا گیا۔ ابتدا ہی سے طے کیا گیا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کے نقصانات کا باقاعدہ سروے کرکے ان کی مستقل بازآبادکاری میں بھرپورتعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء آسام کی ٹیمیں مسلسل گھرگھر پہنچ رہی ہیں، تاکہ حقیقی مستحقین کی صحیح نشاندہی، نقصان کا درست تخمینہ اورضرورت کے مطابق امداد کی شفاف تقسیم یقینی بنائی جاسکے۔ سیلاب نے بہت سے خاندانوں سے صرف راشن اورگھریلوسامان ہی نہیں چھینا بلکہ ان کے مکانات، ذرائع معاش اورزندگی بھرکی جمع پونجی بھی تباہ کردی ہے، اس لیے فوری امداد کے بعد انہیں تنہا چھوڑدینا کافی نہیں ہے۔ بالائی آسام کے سیلاب متاثرین کے لیے جاری امدادی وبازآبادکاری مہم میں مجموعی طورپر2 کروڑ25 لاکھ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ ان میں ایک کروڑروپئے مرکزی دفترجمعیۃ علماء ہند کی جانب سے، جبکہ ایک کروڑ25 لاکھ روپئے عنفرفاؤنڈیشن کی طرف سے فراہم کئے جائیں گے۔ یہ رقم جمعیۃ علماء آسام کے توسط سے متاثرین کی فوری امداد اورمرحلہ واربازآبادکاری پر خرچ کی جائے گی۔

ابتدائی ریلیف پر تقریباً 30 لاکھ روپے خرچ

سیلاب کے ابتدائی دنوں میں جمعیۃ علماء آسام کی ٹیموں نے متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر چاول، دال، پیاز، آلو، سرسوں کا تیل، نمک اوردیگراشیائے خوردونوش بڑی مقدارمیں تقسیم کیں۔ خواتین کے مختلف ملبوسات، فینائل اورروزمرہ استعمال کا ضروری گھریلو سامان بھی فراہم کیا گیا۔ ابتدائی مرحلے کی امدادی سرگرمیوں پرتقریباً 30 لاکھ روپئے خرچ کیے جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً چار لاکھ روپے مالیت کی ٹین کی چادریں، ایک لاکھ روپے کا فینائل اورڈھائی لاکھ روپے کی ادویات بھی متاثرہ علاقوں میں تقسیم کی گئی ہیں۔ جمعیۃ علماء آسام کی ٹیموں نے بالائی آسام کے متاثرہ علاقوں میں باقاعدہ گھرگھرسروے کیا ہے اوراب تک شیوساگر، جورہاٹ، گولاگھاٹ اورچرائی دیواضلاع کے متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل ہوچکا ہے۔ اس کام کے لیے تقریباً 30 سے 35 افراد پرمشتمل خصوصی سروے ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جومکانات، گھریلو سامان اورذرائع معاش کوپہنچنے والے نقصان کی نوعیت اور شدت کے مطابق خاندانوں کی درجہ بندی کررہی ہے۔ متاثرین کے آدھار کارڈ، بینک اکاؤنٹ اوردیگرضروری دستاویزات کی تصدیق بھی کی جارہی ہے، تاکہ مالی امداد حتی الامکان براہِ راست حقیقی مستحقین کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جاسکے۔ مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ امداد میں مکمل شفافیت اورمستحق تک براہِ راست تعاون پہنچانا ہماری اولین ترجیح ہے۔

2,400 سے 2,500 خاندانوں کو براہِ راست مالی امداد

گھرگھرسروے اورنقصانات کی درجہ بندی کی بنیاد پرتقریباً 2,400 سے 2,500 متاثرہ خاندانوں کوبراہِ راست مالی امداد دینے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ شدید نقصان اٹھانے والے مستحق خاندانوں کو 10 ہزارروپے، درمیانی درجے کے نقصان والے خاندانوں کو 7 ہزارروپئے اورنسبتاً کم نقصان والے مستحق خاندانوں کو 5 ہزار روپے تک مالی امداد دی جائے گی۔ یہ رقم مستحق خاندانوں کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سیلاب اور اس سے متعلق حادثات میں اپنے عزیزوں کو کھونے والے خاندانوں کے لیے بھی خصوصی مالی تعاون کا انتظام کیا گیا ہے۔ ایسے بعض خاندانوں کو 50 ہزار روپے فی خاندان اور انتہائی ضرورت مند خاندانوں کو ایک لاکھ روپے تک خصوصی امداد فراہم کی گئی ہے۔ مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ کسی انسانی جان کا کوئی مالی نعم البدل نہیں ہوسکتا، تاہم مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندان کے دکھ میں شریک ہونا اور اسے فوری مالی سہارا فراہم کرنا ہماری انسانی ذمہ داری ہے۔

یتیم اوربے سہارا بچوں کی دوسالہ تعلیمی کفالت

سروے کے دوران ایسے یتیم اوربے سہارا بچے بھی سامنے آئے ہیں جن کی تعلیم سیلاب اورگھریلوحالات کے باعث متاثرہونے کا خدشہ ہے۔ ابتدائی طورپر2 بچوں کی دوسالہ تعلیمی کفالت کی ذمہ داری لی گئی ہے اورانہیں فی بچہ دو ہزارروپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے، تاکہ مالی مشکلات کے باعث ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔ اس کے ساتھ تقریباً پانچ لاکھ روپے مالیت کی کتابیں ایک ہزاربچوں میں تقسیم کی گئی ہیں تاکہ سیلاب سے متاثرہونے والے طلبہ کی تعلیم کو دوبارہ معمول پرلانے میں مدد مل سکے۔

مقامی سماجی تنظیموں کے ذریعہ 400 خاندانوں تک امداد

جمعیۃ علماء آسام نے امدادی سرگرمیوں میں مقامی سماجی تنظیموں کوبھی شریک کیا ہے۔ بیر لاچت سینا کے سربراہ شرتکھر چالیہا، آسام جاتیہ سنگرامی سینا کے صدر چنتو بروا، آسامی یوا منچ کے جنرل سیکریٹری آکاش شیکیا اورپولاس دتوکے توسط سے بھی تقریباً 400 سیلاب متاثرہ خاندانوں کواشیائے خوردونوش اورضروری رہائشی وگھریلوسامان فراہم کیا گیا ہے۔ جمعیۃ علماء آسام کی یہ مہم چند دن راشن یا امدادی سامان تقسیم کرکے ختم کردینے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا بنیادی ہدف متاثرہ خاندانوں کودوبارہ اپنے پاؤں پرکھڑا کرنا ہے۔ اسی مقصد سے پورے کام کو تین بنیادی مراحل، ریلیف، گھرگھرجامع سروے اوربراہِ راست مالی امداد ومستقل بازآبادکاری میں منظم کیا گیا ہے۔ مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ حقیقی مستحقین کی مکمل بازآبادکاری تک یہ کام جاری رہے گا اورہرمرحلے پرشفافیت، بلا امتیازخدمت اورضرورت مند تک براہِ راست امداد پہنچانے کے اصول کو مقدم رکھا جائے گا۔

 بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read