Bharat Express DD Free Dish

Jamia Millia Islamia Foundation Day:  جامعہ ملیہ اسلامیہ کے یوم تاسیس کا شاندار آغاز، مرکزی وزیر کرن رجیجو نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے تقریب میں کی شرکت، چھ روزہ ’تعلیمی میلے‘ کا باوقار آغاز

اردو زبان کو دنیا کی سب سے خوب صورت اور شیریں زبان قرار دیتے ہوئے وزیر موصوف نے مزید کہا کہ اس اہم موقع پر جامعہ آنے اور اس کی تہذیبی ثروت مندی کا قریب سے مشاہدہ کرنے نیز جامعہ ترانہ میں اس کی عظمت کا احساس جس نہج پر جاگزیں تھا وہ اردو زبان کی خوب صورتی کے وسیلے سے ہوا تھا جس سے ان کے دل میں یونیورسٹی کے لیے جذبہ احترام میں مزید اضافہ ہواہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ نے آج یونیورسٹی کے ایم۔اے۔انصاری آڈیٹوریم میں اپنے ایک سو پانچویں یوم تاسیس کا آغازشان دارفتتاحی تقریب کے ساتھ کیا۔ وائس چانسلر پروفیسرمظہرآصف، رجسٹرار پروفیسرمحمد مہتاب عالم رضوی اور ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر نیلوفر افضل کی موجودگی میں مرکزی وزیر برائے پارلیمانی و اقلیتی امور جناب کرن رجیجو بطور مہمان خصوصی پروگرام میں شریک ہوئے۔ پروگرام کا آغاز وزیر موصوف کو گارڈ آف آنر دے کر ہوا۔ اس کے بعد قرآن پاک کی روح پرور تلاوت ہوئی اور بھرے آڈیٹوریم میں جامعہ اسکول کے طلبہ کی جانب سے عقیدت و جوش سے بھرا اور جامعہ کی ثروت مند وراثت کی روح سے ہم آہنگ ’جامعہ ترانہ‘ پیش کیاگیا۔ نیز افتتاحی تقریب میں اس سال جامعہ کا منفرد چھ روزہ شان دار تعلیمی و تہذیبی میلے کا بھی آغاز ہوا۔ افتتاحی تقریب کی اہم بات جامعہ کے نیوز لیٹر’جوہر‘کا اجرا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ اس خاص شمارے میں اکتوبر 2024 سے ستمبر 2025 کی مدت کا احاطہ کیا گیا ہے اور آٹھ برسوں کی طویل مدت کے بعد دوبارہ اس کا احیا ہواہے۔ اس کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ضخیم سالانہ رپورٹ کا اجرا وزیر موصوف کے ہاتھوں ہوا۔

کرن رجیجو جی نے اپنی تقریر میں اس عظیم ادارے کے قیام کے ابتدائی برسوں میں جامعہ کے بانیان مولانا محمد علی جوہر، ڈاکٹر ایم۔اے۔انصاری،ڈاکٹر مجیب اور مہاتما گاندھی، رابندر ناتھ ٹیگور،سروجنی نائیڈو اور مولانا ابو الکلام آزاد کی غیر معمولی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی افضلیت سے خاصے متاثر ہیں جہاں گیارہ فیکلٹیز، اڑتالیس شعبوں اور اٹھائیس مراکز کے زیر اہتمام متنوع کورسیس فراہم کرائے جاتے ہیں اور قومی و بین الاقوامی رینکنگ میں اعلی مقام رکھنے والی یونیورسٹی ہے۔انہوں نے مزید کہا”جامعہ کی بے مثل تعلیمی مساعی اور اپنی منفرد تہذیبی ثروت مندی کے باعث میرے دل میں اس کی خاص جگہ ہے۔“

بھارت جیسے بڑی پارلیمانی جمہوریت کے کا م کاج سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف خطوں،نظریات اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے منتخب نمائندگان کے سبب مسائل اور امور پر گرما گرم اور طویل بحثیں بھی ہوتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ’جامعہ ملیہ اسلامیہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی عمدہ ترین مثال ہے اور یہ ’کثرت میں وحدت‘کے فلسفے کا نمونہ بھی پیش کرتاہے اوراسے وہ یونیورسٹی ہونا چاہیے جو پورے ملک میں اتحاد،قومیت اور اخوت کا مضبوط پیغام ہمیشہ بھیجتی ہے اوربھیجتی رہی ہے۔‘

قومیت اوروطن پرستی کے بے داغ جذبے اور غیر متزلزل عہد، خدمت،ایمان دار اور ملک اور تعلیم کے تئیں عہد کی وراثت کے لیے انہوں نے جامعہ کی تعریف کی۔ کرن رجیجو نے کہا کہ ”جامعہ ملیہ اسلامیہ کا نام غیر معمولی عزت وتوقیر، فخر رکھتا ہے اور ہمیشہ اس کا نام وقار کے ساتھ لیا جاتاہے۔“ آئین ہند میں مذکور چھ اقلیتی برادریوں میں مسلم،جین، بدھسٹ، سکھ،عیسائی اور پارسی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا مسلمان تعداد کے لحاظ سے زیادہ ہیں اور حکومت ان میں ہر ایک برادری کی بہبود اور فلاح کے لیے فکر مند رہتی ہے اور ان کے لیے کام کرتی ہے۔ بطور مزکری وزیراقلیتی امور کرن رجیجو نے کہا کہ وہ اور ان کی وزارت جامعہ ملیہ اسلامیہ کو بھر پور تعاون دیں گے۔انصاری آڈیٹوریم کا مشاہد ہ کرنے کے بعد جہاں افتتاحی تقریب منعقد ہوئی تھی انہوں نے کہا ایسی عظیم اور ممتاز یونیورسٹی کے پاس پروگرام کے بڑی جگہ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ان کی وزارت جامعہ کو زیادہ نشستوں والے آڈیٹوریم کے قیام میں تعاون دے گی۔

اردو زبان کو دنیا کی سب سے خوب صورت اور شیریں زبان قرار دیتے ہوئے وزیر موصوف نے مزید کہا کہ اس اہم موقع پر جامعہ آنے اور اس کی تہذیبی ثروت مندی کا قریب سے مشاہدہ کرنے نیز جامعہ ترانہ میں اس کی عظمت کا احساس جس نہج پر جاگزیں تھا وہ اردو زبان کی خوب صورتی کے وسیلے سے ہوا تھا جس سے ان کے دل میں یونیورسٹی کے لیے جذبہ احترام میں مزید اضافہ ہواہے۔ گزشتہ ایک صدی میں جامعہ نے جو ترقی کے منازل طے کیے ہیں اس کے لیے انہوں جامعہ کی ستائش کی۔ کرن رجیجو نے کہا کہ انہوں نے ایک سو پچپن ممالک کے اسفار کیے ہیں ’میں کہہ سکتاہوں کہ بھارت کا مستقبل محفوظ ہے کیوں کہ اس کے پاس دنیا کا عمدہ ترین،طویل اور فعال آئین ہے۔ جب کہ بہت سے ممالک سیاسی اور معاشی عدم استحکام اور ان سطحوں پر ناکامی دکھائی دیتی ہے بھارت نے حالیہ برسوں میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔“

اگست گیدرنگ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے مشن اور وکست بھارت کے وژن کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے ہمارے پاس صرف بائیس سال بچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”جس رفتار سے جس ترقی کی راہ پر گامزن ہے اس سے ہم اس ہدف کو جلد حاصل کرلیں گے کیوں کہ بھارت پہلے دو یا تین فی صد کی شرح ترقی کے ساتھ پروان چڑھ رہا تھا اور دنیا بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی آج یہ کہانی الٹ شروع ہوچکی ہے کیوں کہ دنیا کی زیادہ تر معیشتیں دو اور تین فی صد کے حساب سے ترقی کررہی ہیں جب کہ وزیر اعظم نریندر مودی قیادت میں شرح ترقی سات فیصد درج ہورہی ہے۔“

پروفیسر مظہر آصف نے وزیرموصوف کو عدیم الفرصتی کے باوجود یوم تاسیس کا افتتاح کے لیے وقت نکالنے پر دل کی گہرائیوں سے سپاس کا اظہار کیا۔ وزیر موصوف کا پرتپاک خیر مقد م کرنے کے لیے انہوں نے اشعار پڑھے۔ پروفیسر مظہر آصف نے جامعہ کے بانیان کے مشن اور وژن کی تعریف کی اور جامعہ کے تمام وائس چانسلروں کے جذبے اور عہد اور ان کی خدمات کو خراج پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ جامعہ میں انہیں بطور وائس چانسلر ایک سال چار دن مکمل ہوئے ہیں اور یہ خوش گوار اتفاق ہے کہ تاریخی تعلیمی میلہ منعقد ہورہاہے،انہوں تمام لوگوں کا تعاون کے لیے شکریہ ادا کیا صرف تعلیمی افضلیت کے لیے نہیں بلکہ ایسے طلبہ پیدا کرنے کے لیے جو معلومات اور اطلاعات کی منتقلی سے پرے جامع تعلیم کے توسط سے جامعہ کی روح کو سراپا اپنے اندر جذب کیے ہوئے ہیں اور تصورات و افکار کے ساتھ فلسفیانہ سلوک اور دائروی رشتے پر زور دیتی ہے۔ پروفیسر آصف نے کہا کہ جامعہ کے بانیان اور معماروں کا اس عظیم ادارے کے لیے یہی وہ وژن تھا اور تعلیمی میلہ 2025 قومی خدمت، کلاسیکیت کے ساتھ جدیدیت کو مربوط کرنا،خواتین کو با اختیار بنانا، مقصد کے ساتھ ایمان داری و وفاداری اور علم و دانش کے لیے پرجوش تلاش جیسے بنیادی تصورات تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ”ایک سوپانچواں یوم تاسیس ایک سنگ میل ہے جو ہمارے ماضی کو عزت و احترام دیتا ہے اورہمیں ایک روشن اور تابناک مستقبل کی تحریک دیتاہے۔ جامعہ صرف ایک یونیورسٹی نہیں بلکہ یہ ایک فکر، خواب،فلسفہ اور عظیم روایت ہے جو ملک کی تاریخ اور اس کے جدو جہد آزادی کی یاد تازہ کرتی ہے۔اس لیے جامعہ نے ملک میں اپنا جائز مقام حاصل کرلیا ہے وہ بلند اور اعلی اس لیے کہ وہ اپنی بے مثل روایت اور تہذیب کی بنیادوں پر استوار ہے۔ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں کہ جامعہ نے کیا حاصل کیاہے کیوں کہ اس کا نام خود اپنے کام کو اجاگر کرتاہے۔“

رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے اپنی تقریر میں انتیس اکتوبر یوم تاسیس کو جامعہ کے لیے ایک مبارک موقع بتایا اور جامعہ کے لیے عزت مآب وزیر کے فراخ دلانہ تعاون کاشکریہ ادا کیا۔انہوں نے بتایاکہ پہلے دوہزار چھ میں وزارت برائے اقلیتی امور کے قیام کے وقت سے جامعہ کو کوئی گرانٹ نہیں ملتی تھی لیکن اب کرن رجیجو کے مدت کار میں یونیورسٹی کو دو بڑے اہم پروجیکٹ ملے ہیں ایک ریسرچ لیب ان الیکٹرک ویہکل اور دوسرا پروجیکٹ اے سائبر سکیورٹی ٹسٹنگ لیب۔

جناب رجیجو نے ازراہ کرم جامعہ کی رہائشی کوچنگ کے لیے ایک مکمل اے سی والی لائبریری کو منظور کرنے سے اتفاق کیا ہے جہاں سے سیکڑوں سول سرونٹ نکل کر ملک کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ پروفیسر رضوی نے سامعین کو بتایاکہ اقلیتی وزارت نے ایک سو اکیاسی کروڑ جامعہ کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور ہاسٹل اور اسمارٹ کلاس روم بنانے کے لیے منظور کیے ہیں۔ پروفیسر رضوی نے جامعہ کے لیے وزیر موصوف کے متواتر تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ بانیان جامعہ کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے طلبہ سے کہا کہ جامعہ کے وقار کو برقرار رکھیں اور اس کی بہتر رینکنگ کے لیے کوشاں رہیں۔

جامعہ اسکول گروپ کی جانب سے ’جامعہ رقص کناں ہو کہ تیری عید ہے آج‘ مسحور کن موسیقی پیش کش کے بعدپروفیسر نیلوفر افضل، ڈین اسٹوڈینٹ ویلفیئر (ڈی ایس ڈبلیو) نے عزت مآب وزیر،وائس چانسلر، رجسٹرار، فیکلٹی اراکین،طلبہ،ڈی ایس ڈبلیو ٹیم کے اراکین، اور سکیورٹی افسران، صفائی اکائی کے ملازمین اور شعبہ باغبانی،جامعہ ملیہ اسلامیہ کا شکریہ ادا کیا۔

تعلیمی میلہ چھ روز تک جاری رہے گا جس میں تعلیمی سیشن، نمائش، ورکشاپ، اور تہذیبی و ثقافتی پروگرا م ہوں گے اور ممتاز اسکالر، ماہرین تعلیم، علم و ادب اور تہذیب کے شیدائی اس میں حصہ لیں گے۔ ہر شام کسی نہ کسی موسیقی کے کسی خاص پروگرام پر ختم ہوگی۔ تعلیمی میلہ 2025 جس پیمانے اور جس پرشکوہ انداز میں ہورہاہے اس لحاظ سے یہ اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ کوڈ بحران کے بعد سے یہ پہلی مرتبہ اتنے بڑے پیمانے پر منعقد ہورہاہے۔ جامعہ کا تعلیمی میلہ بڑے پیمانے پرمقبول دہلی کی تہذیبی و ثقافتی اور تعلیمی جشن اور تہواروں میں سے ایک ہے،جس کا یونیورسٹی کے اکیس ہزار طلبہ،اس کے المنائی اور بڑے پیمانے پر مقامی آبادی بے صبری سے انتظار کرتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔