Bharat Express DD Free Dish

cultural program

دہلی کے اشوک ہوٹل میں ’جانتا راجا‘ عظیم الشان ڈرامے کی پیشگی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اکتوبر میں غازی آباد میں چھترپتی شیواجی مہاراج کی زندگی پر مبنی عظیم الشان ڈرامے ’جانتا راجا‘ پیش کیا جائے گا۔

اس تقریب میں تلنگانہ کے گورنر شیو پرتاپ شکلا بطور مہمان خصوصی جبکہ بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے چیئرمین و ایڈیٹر ان چیف اُپیندر رائے مہمان ذی وقار کی حیثیت سے شریک ہوں گے۔

’’سُرسنگم‘‘ کے تیسرے اور آخری دن کا آغاز شاندار مشاعرے سے ہوا، جس میں ملک کے ممتاز اور سینئر شعرا نے شرکت کی۔ پروگرام کے اختتام پر اردو اکادمی، دہلی کے سکریٹری لیکھ راج نے مہمان فنکاروں کا استقبال کرتے ہوئے سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ ’’سُر سنگم‘‘ کے تیسرے دن کے تمام پروگراموں کی نظامت کے فرائض اطہر سعید نے بخوبی انجام دیے۔

اردو زبان کو دنیا کی سب سے خوب صورت اور شیریں زبان قرار دیتے ہوئے وزیر موصوف نے مزید کہا کہ اس اہم موقع پر جامعہ آنے اور اس کی تہذیبی ثروت مندی کا قریب سے مشاہدہ کرنے نیز جامعہ ترانہ میں اس کی عظمت کا احساس جس نہج پر جاگزیں تھا وہ اردو زبان کی خوب صورتی کے وسیلے سے ہوا تھا جس سے ان کے دل میں یونیورسٹی کے لیے جذبہ احترام میں مزید اضافہ ہواہے۔

پنڈت دین دیال اوپادھیائے سناتن دھرم ودیالیہ میں شاندار ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا گیا، جن میں وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن 2047 کو مختلف رقص اور ڈراموں کے ذریعے پیش کیا گیا۔

11 اکتوبر کو مادھو اسمرتی گراؤنڈ، کانپور میں ثقافتی و تعلیمی پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا۔ تقریب کا موضوع ’ویژن 2047: وِکست بھارت‘ رکھا گیا ہے جو وزیراعظم نریندر مودی کا دیرینہ خواب ہے۔

دوسرے سیشن "ہندی ہیں ہم" میں ہندی ادیب اوم نِشچل اورپروفیسراشوک چکردھرکے درمیان گفتگوہوئی۔ اس میں ڈاکٹراوم نِشچل نے راج بھاشا ہندی کے سفراوراس کی موجودہ سمت وحالت پرروشنی ڈالی۔

معروف ادیبہ اور نقاد رخشندہ روحی مہدی نے مسرور جہاں کے افسانوی اسلوب اور ان کی تخلیقی انفرادیت پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق مسرور جہاں کے افسانوں میں عورت کے جذبات، اس کی محرومیاں اور اس کے خواب نہایت سچائی کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں۔ مسرور جہاں کی تحریروں میں زبان کی شستگی، پلاٹ کی مضبوطی اور کرداروں کی نفسیاتی گہرائی ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔