Bharat Express DD Free Dish

ISRO PSLV c62 mission fails: اسرو کو جھٹکا: راستہ بھٹک گیا پی ایس ایل وی-سی 62 مشن کا راکٹ، وی نارائنن نے کیا کہا؟

اسرو کا سال 2026 کا پہلا مشن راستہ بھٹک گیا ہے۔ راکٹ کے تیسرے مرحلے میں خرابی آنے کے باعث ڈی آر ڈی او کا جاسوسی سیٹلائٹ ’انوَیشا‘ اور 14 دیگر سیٹلائٹس اپنے مقررہ مدار سے بھٹک گئے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس معاملے پر اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے کیا کہا ہے؟

2026 کی شروعات بھارتی خلائی تحقیق تنظیم (اسرو) کے لیے مایوس کن ثابت ہوئی۔ پیر کے روز لانچ کیا گیا کثیر انتظار شدہ پی ایس ایل وی-سی 62 مشن تکنیکی خرابی کے باعث ناکام ہو گیا۔ اس مشن کے تحت بھارت کی ’تیسری آنکھ‘ کہے جانے والے ڈی آر ڈی او کے جاسوسی سیٹلائٹ ’انوَیشا‘ (EOS-N1) اور 14 دیگر چھوٹے سیٹلائٹس کو خلا میں بھیجا گیا تھا، لیکن وہ اپنی مقررہ مدار تک نہیں پہنچ سکے۔ یہ سیٹلائٹ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) سے لیس ڈیٹا پروسیسنگ کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس کا وزن 150 سے 200 کلوگرام (مائیکرو سیٹلائٹ کیٹیگری) تھا۔ اس کا استعمال صرف دفاع ہی نہیں بلکہ زراعت، آفات کے انتظام اور وسائل کی نقشہ سازی میں بھی کیا جانا تھا۔ یہ مشن نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ (NSIL) کے تحت سال 2026 کا پہلا اور مجموعی طور پر نواں کمرشل مشن تھا۔

تیسرے مرحلے میں تکنیکی رکاوٹ

اسرو کے مطابق، راکٹ نے شری ہری کوٹا سے صبح 10:18 بجے درست وقت پر پرواز بھری۔ ابتدائی مراحل معمول کے مطابق رہے، تاہم مشن کے تیسرے مرحلے (تھرڈ اسٹیج) میں تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی۔ اسرو کے سربراہ ڈاکٹر وی نارائنن نے تصدیق کی کہ تیسرے مرحلے کے آخری لمحات میں راکٹ کی گھومنے کی رفتار (روٹیشنل ریٹ) میں عدم استحکام دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں سیٹلائٹ اپنے طے شدہ راستے سے بھٹک گیا اور مشن ناکام ہو گیا۔ اسے زمین سے تقریباً 600 کلومیٹر کی بلندی پر ’سن سنکرونس آربٹ‘ (SSO) میں نصب کیا جانا تھا۔

’انوَیشا‘ کیا تھا اور کیوں تھا خاص؟

اس مشن کا مرکزی پے لوڈ ’انوَیشا‘ سیٹلائٹ تھا، جسے دفاعی تحقیق و ترقی تنظیم (DRDO) نے تیار کیا تھا۔ یہ ایک جدید ہائپراسپیکٹرل امیجنگ سیٹلائٹ تھا، جو گھنے جنگلات، جھاڑیوں یا بنکروں میں چھپے دشمنوں اور دہشت گرد سرگرمیوں کی آسانی سے نشاندہی کر سکتا تھا۔ عام کیمروں کی طرح صرف چند رنگ نہیں بلکہ روشنی کے سینکڑوں اسپیکٹرم (ویو لینتھ) کو پکڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اسے بھارت کی سلامتی کے لیے خلا میں ’تیسری آنکھ‘ تصور کیا جا رہا تھا۔انوَیشا کے ساتھ اس مشن میں شامل 14 کو-پیسنجر سیٹلائٹس بھی ضائع ہو گئے۔ ان میں 7 بھارتی سیٹلائٹس حیدرآباد میں قائم نجی خلائی کمپنی ’دھرووا اسپیس‘ کے تھے، جس سے بھارت کے نجی خلائی شعبے کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ اس کے علاوہ 8 غیر ملکی سیٹلائٹس بھی شامل تھے، جن میں فرانس، نیپال، برازیل اور برطانیہ کے سیٹلائٹس شامل تھے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read