Bharat Express DD Free Dish

ISRO Chairman

اسرو کا اس سال کا پہلا مشن ’پی ایس ایل وی-سی 62‘ ناکام ہو گیا ہے۔ اس مشن کے تحت پرائمری پے لوڈ انویشا (EOS-N1) اور 15 کو-پیسنجر سیٹلائٹس کو خلا میں نصب کیا جانا تھا۔ تاہم مشن کے آٹھویں منٹ میں تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی، جس کے باعث راکٹ اپنے طے شدہ راستے سے بھٹک گیا۔

اسرو کا سال 2026 کا پہلا مشن راستہ بھٹک گیا ہے۔ راکٹ کے تیسرے مرحلے میں خرابی آنے کے باعث ڈی آر ڈی او کا جاسوسی سیٹلائٹ ’انوَیشا‘ اور 14 دیگر سیٹلائٹس اپنے مقررہ مدار سے بھٹک گئے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس معاملے پر اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے کیا کہا ہے؟

جیسے ہی سال 2025 اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے، بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارہ (اسرو) ایک ایسے مرحلے میں داخل ہونے کی تیاری کر رہا ہے جو بھارت کی خلائی تاریخ کو نئی سمت دے سکتا ہے۔ 2026 کو بھارت کے خلائی سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں سات اہم مشنز، خصوصاً گگن یان سے جڑے تجربات، ملک کو انسانی خلائی پرواز کے خواب کے مزید قریب لے جائیں گے۔

بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے اسرو کے چیئرمین ڈاکٹر وی نارائنن نے اننت ٹیکنالوجیز کی جانب سے قائم کیے گئے ’’نیویگیشن سینٹر آف ایکسیلینس‘‘ کا باضابطہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس دن کو اپنے لیے نہایت اہم قرار دیا اور کہا کہ یہاں آکر انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اسرو کے اپنے ہی خاندان کے درمیان موجود ہوں۔

EOS-09 ایک جدید زمین کا مشاہدہ کرنے والا سیٹلائٹ ہے، جس میں سی بینڈ سنتھیٹک اپرچر ریڈار (SAR) ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ سیٹلائٹ کسی بھی موسم اور دن یا رات میں زمین کی سطح کی ہائی ریزولوشن تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ زراعت، جنگلاتی علاقہ مینجمنٹ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور دفاعی شعبوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

خلا میں ہندوستان کی کامیابیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، اسرو کے چیئرمین نے کہا کہ چندریان -1 مشن نے چاند کی سطح پر پانی کے مالیکیولز کے شواہد دریافت کیے، جس سے ہندوستان ایسا کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔

نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم ہندوستان میں صارفین کو اور ہندوستانی سطح سے تقریباً 1500 کلومیٹر کے فاصلے تک درست پوزیشن، رفتار اور وقت کی خدمات فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ایس سومناتھ نے جنوری 2022 میں اسرو کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا اور ان کے تحت ہندوستان چاند کے جنوبی قطب کے علاقے میں روور اتارنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا تھا۔ ان کی قیادت میں بھارت امریکہ، روس اور چین کے بعد چاند پر سوفٹ لینڈنگ کرنے والا چوتھا ملک بن گیا۔

اسرو کے مطابق، بندرگاہ اور کھلے سمندر کے حالات میں بغیر پائلٹ کی ریکوری سے لے کر انسانوں کی ریکوری کی تربیت تک بڑھتے ہوئے مراحل میں ریکوری کی تربیت کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ریکوری آپریشن کی قیادت ہندوستانی بحریہ دیگر سرکاری ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کر رہی ہے۔

اسرو نے کہا کہ دونوں سیٹلائٹس کو زمین کے مطلوبہ مدار میں کامیابی کے ساتھ نصب کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اسرو نے ہندوستان کو جی پی ایس سے لے کر دوسرے مواصلاتی نظام تک کے معاملات میں بھی خود کفیل بنایا ہے۔