نئی دہلی: قومی اقلیتی تعلیمی اداروں کے کمیشن (این سی ایم ای آئی) کے قائم مقام چیئرمین اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ انتظامیہ میں پروفیسرڈاکٹرشاہد اختر نے وسط ایشیا میں جاری خونی تنازعہ پرگہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا جنگ کی ہولناکیوں سے بارباراٹھی ہے، لیکن بے گناہ شہریوں کا خون آج بھی بہایا جا رہا ہے، جو انسانیت کے لیے ایک داغ ہے۔
‘امن تمام مذاہب کی بنیادی ضرورت’
پروفیسر اختر نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا کے تمام بڑے مذاہب؛ اسلام، سناتن، عیسائیت، جین اور بدھ مت؛ نے امن کو انسانیت کی سب سے بنیادی ضرورت قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ خود ‘اسلام’ لفظ کی ابتدا ‘سلام’ (امن) سے ہوئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس مذہب کا بنیادی پیغام امن ہی ہے۔
‘ایک بے گناہ کا قتل، پوری انسانیت کا قتل’
اپنے بیان میں انہوں نے قرآن کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، سورۃ المائدہ (5:32) میں صاف حکم ہے: ‘جس نے ایک بے گناہ انسان کو مارا، اس نے گویا تمام انسانیت کو قتل کر دیا۔’ پروفیسر اختر نے زور دے کر کہا کہ یہ آیت اسلام کے اس بنیادی اصول کو واضح کرتی ہے، جہاں ایک معصوم کے قتل کو پوری نوع انسانی کے قتل کے برابر قرار دیا گیا ہے۔
‘فساد برپا کرنے والے نقصان میں ہیں’
انہوں نے سورۃ البقرہ (2:27) کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے خبردارکیا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے آخرکارنقصان اٹھانے والوں میں سے ہوتے ہیں۔ انہوں نے زوردے کرکہا کہ اسلام ہمیشہ جنگ کی بجائے امن اورمفاہمت کوترجیح دیتا ہے۔
‘دشمن سے ملنے کی تمنا نہ کرو’
پروفیسر شاہد اختر نے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی اس حدیث کا بھی ذکر کیا جس میں جنگ کو ‘آخری آپشن’ قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے بخاری کی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ‘دشمن سے ملنے (جنگ) کی تمنا نہ کرو۔’ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ترمذی کی حدیث کے مطابق، ‘مومن وہ ہے جس سے لوگوں کی جانیں اور مال محفوظ رہیں۔’
‘میثاق مدینہ سے امن کا پیغام’
انہوں نے اسلامی تاریخ کے اہم دستاویز ‘میثاق مدینہ’ (مدینہ کا آئین) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام نے صدیوں پہلے ہی تمام مذاہب اور عقائد کے وجود کو تسلیم کرنے کی تعلیم دی تھی۔ انہوں نے اپنے بیان کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کا حقیقی پیغام انصاف، مساوات اور عالمی امن کا قیام ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


