مغربی ایشیا میں ایران اور اسرائیل-امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے باعث بھارتی شیئر بازار میں بھاری گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے۔ صرف چار کاروباری دنوں میں سرمایہ کاروں کے 1.75 لاکھ کروڑ روپے ڈوب گئے اور بڑے شیئرز میں زبردست فروخت دیکھی گئی۔ عالمی شہرت یافتہ صنعتکار مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز اور ایچ ڈی ایف سی بینک جیسے بڑی کمپنیوں کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔
بھارتی شیئر بازار کیوں گرا؟
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے دنیا بھر کے بازار متاثر ہوئے۔ تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور برینٹ کروڈ آئل 112 ڈالر فی بیرل کے پار پہنچ گیا۔ اس سے بھارت جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر بوجھ بڑھ گیا۔ روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوئی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے سرمایہ نکالنا شروع کر دیا۔ گزشتہ روز امریکی بازار میں بھی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ ڈاؤ جونز 793 پوائنٹس گر گیا، جس کا دباؤ بھارتی بازار پر بھی پڑا۔
کن کمپنیوں کو کتنا نقصان ہوا؟
سات بڑی کمپنیوں کے مارکیٹ کیپ میں مجموعی طور پر 1.75 لاکھ کروڑ روپے کی کمی آئی۔
ریلائنس انڈسٹریز کو سب سے بڑا جھٹکا لگا، کمپنی کا مارکیٹ کیپ 89,720 کروڑ روپے کم ہو کر 18.24 لاکھ کروڑ روپے رہ گیا
ایچ ڈی ایف سی بینک کا مارکیٹ کیپ 37,249 کروڑ روپے کم ہو کر 11.64 لاکھ کروڑ روپے رہ گیا
اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو 35,399 کروڑ روپے کا نقصان ہوا
آئی سی آئی سی آئی بینک کو 8,122 کروڑ روپے کا نقصان
بھارتی ایئرٹیل کو 2,480 کروڑ روپے کا نقصان
ہندوستان یونی لیور کو 2,091 کروڑ روپے کا نقصان
ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کو 271 کروڑ روپے کا نقصان ہوا
وہ کمپنیاں جو بحران سے بچ گئیں
تمام کمپنیوں کو نقصان نہیں ہوا۔
لارسن اینڈ ٹوبرو کا مارکیٹ کیپ 18,052 کروڑ روپے بڑھا
بجاج فنانس کو 8,680 کروڑ روپے کا فائدہ ہوا
انفوسس کو 6,245 کروڑ روپے کا فائدہ ملا
شیئر بازار کی صورتحال
بی ایس ای سینسیکس 949 پوائنٹس یعنی 1.27 فیصد گر گیا جبکہ این ایس ای نفٹی 294 پوائنٹس یعنی 1.27 فیصد نیچے آ گیا۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کی فروخت
ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ بھارت زیادہ تر تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے مہنگائی اور کمپنیوں کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے۔ روپیہ 95 کی سطح کے قریب پہنچ گیا جبکہ مارچ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ نکال لیے۔
سرمایہ کاروں کے لیے ماہرین کا مشورہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت بازار میں غیر یقینی صورتحال ہے۔ جنگ کب ختم ہوگی، اس پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ سرمایہ کاری سے پہلے اچھی تحقیق کریں اور ضرورت پڑنے پر ماہرین سے مشورہ لیں۔ طویل مدت کے سرمایہ کاروں کے لیے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن مختصر مدت میں خطرہ زیادہ ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم ہوئی تو بازار سنبھل سکتا ہے، لیکن اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو کمپنیوں کی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر بینکنگ اور توانائی کے شعبے پر نظر رکھنا ضروری ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


