امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے اعلان کے فوراً بعد بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں تیز گراوٹ درج کی گئی۔ پیر کی صبح کے کاروبار میں برینٹ کروڈ 4 فیصد سے زیادہ گر کر تقریباً 83.75 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کروڈ تقریباً 5 فیصد کمی کے ساتھ 80.87 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
بھارت میں راحت کی امید
بھارت میں عوام کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کب تک دیکھنے کو ملے گی۔ ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کو حالیہ مغربی ایشیا بحران کے دوران بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا، جب خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں۔ اس وقت کمپنیوں نے پورا بوجھ صارفین پر نہیں ڈالا تھا، لیکن بعد میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 7 سے 8 روپے فی لیٹر تک اضافہ کرنا پڑا۔
کمپنیوں کے نقصانات کی تلافی
تیل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں مستحکم رہتے ہوئے نچلی سطح پر برقرار رہتی ہیں تو نقصانات کی تلافی جلد ممکن ہو جائے گی۔ اس کے بعد ہی صارفین کو ریلیف دینے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ٹیکس میں کمی کی صورتحال
مارچ میں حکومت نے پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی 3 روپے فی لیٹر کم کی تھی، جبکہ ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی صفر کر دی گئی تھی۔ چونکہ ٹیکس کی شرحیں پہلے ہی کم ہیں، اس لیے فوری طور پر مزید ریلیف دینے کی گنجائش محدود ہے۔ ایسے میں قیمتوں میں استحکام آنے کے بعد ہی حکومت مزید اقدامات پر غور کر سکتی ہے۔
درآمدی لاگت پر اثر
بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا 85 فیصد سے زیادہ حصہ درآمد کرتا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود درآمدی لاگت روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ، مال برداری اور انشورنس اخراجات سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت قیمتوں میں کمی سے پہلے ہر پہلو کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔
مرکزی وزیر نے کیا کہا؟
مرکزی وزیرِ پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے حال ہی میں کہا تھا کہ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک نچلی سطح پر برقرار رہتی ہیں تو اس کا فائدہ صارفین کو مل سکتا ہے۔ مسلسل نرمی سے کمپنیوں کی مالی حالت بہتر ہوگی اور ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کی گنجائش پیدا ہوگی۔
ممکنہ راحت
اگر برینٹ کروڈ کئی ہفتوں تک 80 سے 85 ڈالر فی بیرل کے درمیان مستحکم رہتا ہے تو بھارت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 2 سے 5 روپے فی لیٹر تک کمی آ سکتی ہے۔ تاہم حکومت اور تیل کمپنیاں فی الحال حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جلد بازی میں کوئی فیصلہ لینے کے موڈ میں نہیں ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

