نئی دہلی: آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے 20 لاکھ ڈالر وصول کیے جانے کے دعووں پر ایران کے بھارت میں واقع سفارت خانے نے سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں مکمل طور پر جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ سفارت خانے نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ اس طرح کی خبریں گمراہ کن ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ایسے دعوے بعض افراد کی ذاتی رائے ہو سکتے ہیں
بیان میں واضح کیا گیا کہ ایسے دعوے بعض افراد کی ذاتی رائے ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں کسی بھی صورت میں ایران حکومت کی سرکاری پالیسی یا مؤقف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ سفارت خانے نے زور دے کر کہا کہ ایران نے بین الاقوامی سمندری راستوں کے حوالے سے ایسی کوئی پالیسی نافذ نہیں کی، جس کے تحت جہازوں سے اس نوعیت کی بھاری رقم وصول کی جا رہی ہو۔
ملک کے سرکاری مؤقف کو صرف مستند ذرائع سے ہی سمجھا جانا چاہیے
حکام کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے دوران کئی غیر مصدقہ خبریں اور افواہیں گردش کر رہی ہیں، جنہیں بغیر تصدیق کے وسیع پیمانے پر پھیلایا جا رہا ہے۔ ایران کے سفارت خانے نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سرکاری مؤقف کو صرف مستند ذرائع سے ہی سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ ذاتی بیانات یا افواہوں کی بنیاد پر۔
آبنائے ہرمز بین الاقوامی آمدورفت کے لیے بدستور کھلا ہے
اس دوران ایران کی جانب سے یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی آمدورفت کے لیے بدستور کھلا ہے، اگرچہ موجودہ جیوپولیٹیکل حالات کے پیش نظر بعض ممالک کے حوالے سے مختلف رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ پیر کے روز بھارتی پرچم بردار دو بڑے گیس ٹینکروں کو آبنائے ہرمز عبور کرتے ہوئے ٹریک کیا گیا۔ شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ’جگ وسنت‘ اور ’پائن گیس‘ نامی یہ ٹینکرز متحدہ عرب امارات سے روانہ ہو کر ایران کے ساحل کے قریب سے گزرتے ہوئے اپنی منزل کی جانب بڑھتے دکھائی دیے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
