Bharat Express DD Free Dish

NIA: مدھیہ پردیش اور راجستھان میں ممنوعہ تنظیم حزب التحریر سے متعلق تحقیقات میں آئی تیزی، این آئی اے نے کئی مقامات پر مارے چھاپے

یہ کارروائیاں حزب التحریر کی بنیاد پرستی اور مالی طور پر کمزور مسلم نوجوانوں کو بنیاد پرست بنانے اور تنظیم میں شامل کرنے کی سازش سے متعلق ہیں۔

حکام نے بتایا کہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے ہفتہ کو مدھیہ پردیش اور راجستھان میں ممنوعہ تنظیم حزب التحریر (HUT) کی طرف سے دہشت گردی کی سازش کی تحقیقات کے حصے کے طور پر تلاشی لی۔ این آئی اے کے مطابق اس ممنوعہ تنظیم پر مسلم نوجوانوں کو بنیاد پرست بنانے کی کوششوں کا الزام ہے۔

ایجنسی نے حزب التحریر کی سرگرمیوں اور اس کے کارکنوں کے نیٹ ورک کے بارے میں جاری تحقیقات کے سلسلے میں بھوپال میں تین اور جھالاواڑ، راجستھان میں دو مقامات پر تلاشی لی ہے۔ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق این آئی اے کے ذریعہ ہندوستان بھر میں تباہی پھیلانے کی کوشش کرنے والے مختلف دہشت گرد اور بنیاد پرست نیٹ ورکس اور تنظیموں کو تباہ کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر یہ تلاشیاں کی جا رہی ہیں۔

این آئی اے نے ڈیجیٹل آلات ضبط کیے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں حزب التحریر کی بنیاد پرستی اور مالی طور پر کمزور مسلم نوجوانوں کو بنیاد پرست بنانے اور تنظیم میں شامل کرنے کی سازش سے متعلق ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے ’’نوجوانوں کی تشدد پھیلانے کے لیے حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی تاکہ ہندوستان کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا جا سکے اور ایک اسلامی ریاست قائم کی جا سکے جو شرعی قانون کے تحت چلائی جائے‘‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ NIA کی ٹیموں نے ان تلاشیوں کے دوران متعدد ڈیجیٹل آلات ضبط کیے ہیں، جنھیں فارنسک تجزیہ کے لیے بھیجا جائے گا۔ ابھی تک کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے۔ واضح رہے کہ حزب التحریر تنظیم کی بنیاد لبنان میں پڑی تھی، جس نے پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت ہندوستان میں بھی اپنی شاخ قائم کرنے کی کوشش کی، تاہم ان تینوں ممالک میں اس تنظیم پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس تنظیم کا ماننا ہے کہ ’’خلافت ہی ہر مسئلے کا واحد حل ہے‘‘۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read