ڈی وائی پٹیل یونیورسٹی، نوی ممبئی میں International Mediation and Dispute Resolution Conference 2025 کا انعقاد ہوا، جس میں سابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوئی نے کلیدی خطاب کیا۔ یہ کانفرنس یونیورسٹی اور ممبئی بار ایسوسی ایشن کی مشترکہ میزبانی میں ہوئی۔ جسٹس گوئی نے کہا کہ بدلتے وقت کے ساتھ انصاف کے نظام میں متبادل طریقے ضروری ہوگئے ہیں اور میڈییشن نہ صرف تیز تر ہے بلکہ ’’انسانی احترام، رضامندی اور مستقبل کے تعلقات کو محفوظ رکھنے پر منحصر ہے۔‘‘
عدالتی نظام پر دباؤ اور میڈییشن کا کردار
جسٹس گوئی نے کہا کہ ہندوستان کا عدالتی ڈھانچہ لاکھوں زیر التوا مقدمات اور تیزی سے بدلتے معاشرتی و ٹکنالوجیکل ماحول کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق: ’’انصاف صرف عدالت کے فیصلے سے نہیں بلکہ ایسے نظام سے ممکن ہے جس میں ہر شہری کو موثر، سستا اور قابل رسائی راستہ ملے۔‘‘ انہوں نے میڈییشن کو اس جدوجہد کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
میڈییشن کا قانونی سفر
خطاب میں جسٹس گوئی نے میڈییشن کے ارتقاء کا تاریخی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا: Section 89 Civil Procedure Code — پہلی بار میڈییشن کو عدالت سے منسلک کیا گیا۔ Commercial Courts Act — کمرشل تنازعات میں میڈییشن لازمی عمل کے طور پر سامنے آئی۔ Mediation Act 2023 — ’’ہندوستان میں میڈییشن کا سنگ میل‘‘ قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2023 کا قانون میڈییشن کو ’’متبادل نہیں بلکہ متوازی نظام انصاف‘‘ کا درجہ دیتا ہے۔
ٹیکنالوجی سے عدل تک رسائی
جسٹس گوئی نے کہا کہ COVID-19 کے دوران ODR ایک وقتی ضرورت تھا، لیکن آج: ’’ODR نے چھوٹے شہر کے کاروباری کو بین الاقوامی کمپنی کے ساتھ میز پر بٹھا دیا ہے وہ بھی عدالت جائے بغیر۔‘‘ انہوں نے اسے ’’انصاف کی جغرافیائی سرحدوں کو ختم کرنے والی ٹیکنالوجی‘‘ قرار دیا۔
میڈییشن سے آربٹریشن تک مربوط نظام
خطاب میں جسٹس گوئی نے Med-Arb ماڈل کو مستقبل کی ضرورت قرار دیا، جس میں پہلے میڈییشن ہوتی ہے، اگر جزوی اتفاق ہو تو باقی تنازعہ Arbitration میں جاتا ہے اور اگر مکمل اتفاق ہو تو فیصلہ بطور Arbitral Award نافذ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ماڈل ’’تنازعے کو لچک، رازداری اور قانونی قوت دیتا ہے۔‘‘
چیلنج: زبان، مساوات اور مہارت
جسٹس گوئی نے اس نظام کے تین بڑے چیلنجز بھی اجاگر کیے: میڈییشن انگریزی میں محدود ہے’’گاؤں کے کسان سے انگریزی میں انصاف کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔‘‘ میڈییشن صرف طاقتور طبقہ کیلئے نہ ہو، غیر مساوی طاقت اور ذات پات جیسے عوامل کو میڈیٹر کو سمجھنا ہوگا۔ تربیت یافتہ میڈیٹرز کی ضرورت ’’40 گھنٹے ٹریننگ پروگرامز‘‘ کو انہوں نے اہم قدم قرار دیا۔
’’مصالحت کمزوری نہیں، پختگی ہے‘‘
خطاب کے آخر میں جسٹس گوئی نے کہا: ’’مقدمہ جیتنا ہمیشہ انصاف نہیں ہوتا کبھی تعلقات بچانا، عزت برقرار رکھنا اور امن قائم کرنا اصل انصاف ہوتا ہے۔‘‘ شرکاء نے ان کے خطاب کو ’’قانونی نظام کے مستقبل کی سمت متعین کرنے والی بصیرت‘‘ قرار دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
