گزشتہ اتوار کو وزیر اعظم نریندر مودی نے زرمبادلہ بچانے کے لیے لوگوں سے ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل کی تھی۔ اس کے فوراً بعد حکومت نے سونا اور چاندی پر امپورٹ ڈیوٹی بڑھا دی، جس کے نتیجے میں گھریلو بازار سے لے کر ایم سی ایکس تک سونے اور چاندی کی قیمتیں آسمان چھونے لگیں۔ سونا تقریباً 11 ہزار روپے جبکہ چاندی 22 ہزار روپے تک مہنگی ہو گئی۔
دودھ کی قیمتوں میں اضافہ
سونا اور چاندی کے بعد مہنگائی کا دوسرا بڑا جھٹکا دودھ پر لگا۔ امول اور مدر ڈیری دونوں نے اپنے پیک شدہ دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ امول نے فی لیٹر 2 روپے بڑھائے اور اس کے فوراً بعد مدر ڈیری نے بھی یہی قدم اٹھایا۔ نئی قیمتیں 14 مئی سے نافذ ہو گئیں، جس سے عام لوگوں کی جیب پر براہِ راست اثر پڑا۔
پٹرول-ڈیزل پر تیسرا وار
دودھ مہنگا ہونے کے بعد تیل کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی بڑھا دیں۔ 15 مئی سے پٹرول اور ڈیزل 3 روپے فی لیٹر مہنگے ہو گئے۔ دہلی میں پٹرول اب 97.77 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے، جبکہ کولکاتا میں 108.74 روپے، ممبئی میں 106.68 روپے اور چنئی میں 103.67 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ڈیزل کی نئی قیمتیں بھی دہلی میں 90.67 روپے، کولکاتا میں 95.13 روپے، ممبئی میں 93.14 روپے اور چنئی میں 95.25 روپے فی لیٹر ہو گئی ہیں۔
سی این جی کی قیمتوں میں بھی اضافہ
مہنگائی کا چوتھا جھٹکا سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا۔ ممبئی کے بعد اب دہلی میں بھی سی این جی مہنگی کر دی گئی ہے۔ 15 مئی سے دہلی میں سی این جی 2 روپے فی کلو بڑھ کر 79.09 روپے ہو گئی ہے۔ ممبئی میں بھی ایک دن پہلے سی این جی کی قیمت 82 روپے سے بڑھا کر 84 روپے فی کلو کر دی گئی تھی۔
گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مودی حکومت کی جانب سے لیے گئے چار بڑے فیصلوں نے عوام کی جیب پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔ سونا-چاندی، دودھ، پٹرول-ڈیزل اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کا دباؤ ہر سطح پر محسوس کیا جا رہا ہے۔مہنگائی سے عوام سے لیکر ملک بھر کا اپوزیشن سرا پا احتجاج نظر آ رہا ہے۔ اب دیکھنا ہوگا عوام کے اس احتجاج سے حکومت بیک فٹ پر آتی ہے یا مہنگائی کا یہ سفر جاری رہے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

