وزیر اعظم نریندر مودی۔
مودی حکومت کے دور میں انڈین ریلوے میں بھرتیوں میں تیزی آئی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران خالی آسامیوں کو پُر کرنے اور افرادی قوت کو مضبوط بنانے کے لیے ریلوے نے مسلسل بھرتی مہم چلائی۔ ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے لوک سبھا میں بتایا کہ سال 2014 سے 30 جون 2026 تک انڈین ریلوے میں مجموعی طور پر 5.56 لاکھ سے زائد افراد کو ملازمت دی گئی، جن میں جنوبی ریلوے میں ہونے والی 50,485 تقرریاں بھی شامل ہیں۔
گزشتہ دہائی کے مقابلے میں بھرتیوں میں اضافہ
ریلوے وزیر کے مطابق، اس سے قبل 05-2004 سے 14-2013 کے درمیان انڈین ریلوے میں تقریباً 4.11 لاکھ افراد کو ملازمت ملی تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں بھرتی کے عمل کو تیز کرتے ہوئے بڑی تعداد میں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔
خالی آسامیوں کو پُر کرنے کا عمل مسلسل جاری
انڈین ریلوے ملک کا سب سے بڑا ٹرانسپورٹ نیٹ ورک ہے، جہاں لاکھوں ملازمین مختلف ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ اسی لیے ضرورت کے مطابق وقتاً فوقتاً بھرتی کا عمل شروع کیا جاتا ہے۔ ریلوے وزارت کے مطابق خالی آسامیوں کو پُر کرنا ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے، جبکہ ریلوے نیٹ ورک کی توسیع، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، جدید کاری اور بہتر آپریشن کے لیے بھی نئی تقرریاں کی جاتی ہیں۔
آر آر بی کے ذریعے شفاف بھرتی کا عمل
وزارت کے مطابق بھرتیوں کا زیادہ تر عمل ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ (RRB) کے ذریعے مکمل کیا جاتا ہے۔ وزارت نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں امتحانات کا انعقاد ایک مشکل عمل ہے، کیونکہ اس کے لیے وسیع وسائل اور افرادی قوت درکار ہوتی ہے۔ اس کے باوجود تمام امتحانات طے شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق شفاف انداز میں مکمل کیے گئے۔
ہر سال بھرتی کا نیا کیلنڈر
ریلوے وزارت نے 2024 سے گروپ ’سی‘ کی مختلف آسامیوں کے لیے سالانہ بھرتی کیلنڈر کا آغاز کیا ہے، تاکہ امیدواروں کو باقاعدگی سے ملازمت کے مواقع مل سکیں۔ اس نظام سے امتحانات کے شیڈول بروقت جاری کرنے، انتخابی عمل میں تیزی لانے اور تقرریاں جلد مکمل کرنے میں مدد ملی ہے۔فی الوقت 2024، 2025 اور 2026 کے بھرتی کیلنڈر کے تحت 1,61,889 غیر گزٹیڈ آسامیوں پر تقرری کا عمل جاری ہے، جن میں جنوبی ریلوے کی 11,387 آسامیاں بھی شامل ہیں۔
2024 میں 92 ہزار سے زائد آسامیوں پر بھرتی
سال 2024 میں ریلوے نے 10 مرکزی روزگار نوٹیفکیشنز جاری کیے، جن کے ذریعے 92,116 آسامیوں پر بھرتی کا عمل شروع کیا گیا۔ ان میں اسسٹنٹ لوکو پائلٹ (ALP)، ٹیکنیشن، ریلوے پروٹیکشن فورس (RPF) کے سب انسپکٹر اور کانسٹیبل، جونیئر انجینئر، پیرا میڈیکل اسٹاف، این ٹی پی سی، منسٹریل اور لیول-1 کی آسامیاں شامل تھیں۔
ان آسامیوں کے لیے کمپیوٹر پر مبنی ابتدائی اور سنگل اسٹیج امتحانات مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ ALP اور NTPC گریجویٹ آسامیوں کے لیے اپٹیٹیوڈ ٹیسٹ اور بعض زمروں کے لیے اسکل ٹیسٹ بھی منعقد کیے جا چکے ہیں۔
2025 اور 2026 میں بھی بھرتی مہم جاری
سال 2025 کے بھرتی کیلنڈر کے تحت 9 مرکزی روزگار نوٹیفکیشنز جاری کیے گئے، جن کے ذریعے 51,970 آسامیوں پر بھرتیاں کی جا رہی ہیں، جن میں جنوبی ریلوے کی 3,412 آسامیاں شامل ہیں۔ ان میں سے تقریباً 29,775 آسامیوں کے لیے پہلے مرحلے کا کمپیوٹر بیسڈ امتحان مکمل ہو چکا ہے۔
اسی طرح جونیئر انجینئر، DMS، CMA اور NTPC گریجویٹ آسامیوں کے دوسرے مرحلے کے امتحانات بھی منعقد کیے جا چکے ہیں، جبکہ سیکشن کنٹرولر کی 368 آسامیوں کے لیے 24 شہروں میں 2,989 امیدواروں نے کمپیوٹر بیسڈ اپٹیٹیوڈ ٹیسٹ دیا۔
سال 2026 کے بھرتی کیلنڈر کے تحت اب تک 3 مرکزی روزگار نوٹیفکیشنز جاری کیے جا چکے ہیں، جن کے ذریعے 17,803 آسامیوں پر بھرتی کا عمل شروع کیا گیا ہے، جن میں جنوبی ریلوے کی 1,048 آسامیاں بھی شامل ہیں۔
4.5 کروڑ امیدواروں نے امتحانات میں حصہ لیا
ریلوے وزیر اشونی ویشنو نے بتایا کہ 2024 اور 2025 کے بھرتی سائیکل کے دوران مختلف کمپیوٹر بیسڈ امتحانات میں تقریباً 4.5 کروڑ امیدواروں نے شرکت کی۔ یہ امتحانات ملک کے 150 سے زائد شہروں میں منعقد ہوئے اور امیدواروں کو 15 انڈین زبانوں میں امتحان دینے کی سہولت فراہم کی گئی۔ریلوے وزارت کے مطابق مقامی زبانوں میں امتحان کی سہولت سے ملک کے مختلف حصوں کے نوجوانوں کو فائدہ پہنچا ہے، جبکہ بھرتی کے عمل کو مزید شفاف، تیز رفتار اور سب کے لیے آسان بنانے کی سمت میں مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


