این پی سی آئی انٹرنیشنل پیمنٹس نے کمبوڈیا کے ACLEDAبینک کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ بھارت کے مقامی ریئل ٹائم پیمنٹ سسٹم یونائیٹڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) کو جنوب مشرقی ایشیا کے اس ملک میں قبول کیا جا سکے۔
یہ شراکت داری دونوں پیمنٹ سسٹمز کے لیے کیا ممکن بناتی ہے؟
یہ شراکت داری کمبوڈیا کے قومی کیو آر نیٹ ورک باکونگ (کے ایچ کیو آر) کو بھارت میں قبول کرنے کی سہولت بھی فراہم کرے گی۔
یو پی آئی–کے ایچ کیو آر انٹرآپریبلٹی سے مسافروں کو کیا فائدہ ہوگا؟
دونوں ممالک کے درمیان اس ادائیگی تعاون کے ذریعے بھارت اور کمبوڈیا کے مسافر سیاحتی مقامات، ریستوران، ریٹیل آؤٹ لیٹس اور دیگر جگہوں پر کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی کر سکیں گے، جس سے انہیں آسان، تیز اور محفوظ لین دین کا تجربہ حاصل ہوگا۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ تعاون دونوں ممالک کے کاروباروں کی مدد کرے گا، کیونکہ یو پی آئی اور کے ایچ کیو آر کے ذریعے ایک محفوظ، باہمی طور پر قابلِ استعمال اور بے رکاوٹ ادائیگی کا تجربہ فراہم کیا جائے گا، جو دونوں مارکیٹوں میں صارفین کے لیے سہولت میں نمایاں اضافہ کرے گا۔
بھارتی اور کمبوڈیائی سیاحوں کے لیے کتنے مرچنٹ ٹچ پوائنٹس دستیاب ہیں؟
کمبوڈیا میں بھارتی سیاح یو پی آئی ایپس کے ذریعے وہاں کے مرچنٹ آؤٹ لیٹس پر ادائیگی کر سکتے ہیں۔ کمبوڈیا میں کے ایچ کیو آر کے چار اعشاریہ پانچ ملین سے زیادہ مرچنٹ ٹچ پوائنٹس موجود ہیں۔اس کے مقابلے میں، بھارت میں کمبوڈیائی سیاح سات سو نو ملین سے زیادہ یو پی آئی کیو آر کوڈز کے ذریعے لین دین کر سکتے ہیں۔
این آئی پی ایل نے اس سرحد پار شراکت داری کے بارے میں کیا کہا؟
ریتیش شکلا، منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او، این آئی پی ایل نے کہا کہ دونوں ممالک میں یو پی آئی اور کے ایچ کیو آر کی قبولیت کو ممکن بنا کر ہم سفر کو آسان بنانا چاہتے ہیں اور صارفین کو محفوظ و مانوس ادائیگی کے اختیارات فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ شراکت داری عالمی سطح پر محفوظ، جامع اور اسکیل ایبل ڈجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے ہماری وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔این آئی پی ایل نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا کا بین الاقوامی بازو ہے۔ یہ یو پی آئی کی بین الاقوامی توسیع کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔
کمبوڈیا اس شراکت داری کو کیسے دیکھتا ہے؟
ڈاکٹر اِن چینی، صدر اور گروپ مینیجنگ ڈائریکٹر، ACLEDAبینک نے کہا کہ اس کے علاوہ یہ تعاون علاقائی ادائیگیوں کی باہمی مطابقت کی سمت ایک اہم قدم ہے، جو آسیان کے جامع ڈجیٹل معیشتوں کو آگے بڑھانے اور ڈجیٹل ادائیگیوں میں مالیاتی جدت کو فروغ دینے کے وژن کے مطابق ہے۔ یہ ہمارے صارفین کو تیز، کم لاگت اور محفوظ سرحد پار ادائیگیوں کے اختیارات فراہم کرتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سیاحت کو بڑھاتے ہیں۔
بھارت کے عالمی ادائیگی رابطوں میں حالیہ اقدامات کیا ہیں؟
گزشتہ ماہ، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے کہا تھا کہ یو پی آئی کو یورو سسٹم کے زیرِ انتظام انسٹنٹ پیمنٹ سسٹم ٹارگٹ انسٹنٹ پیمنٹ سیٹلمنٹ (TIPS) کے ساتھ جوڑا جائے گا۔ آر بی آئی، این آئی پی ایل کے ساتھ مل کر، یورپیئن سنٹرل بینک کے ساتھ تعاون کرے گا تاکہ یو پی آئی–ٹِپس لنک کو فعال کیا جا سکے، جس میں تکنیکی انضمام، رسک مینجمنٹ اور سیٹلمنٹ کے انتظامات شامل ہیں۔
یو پی آئی کن دوسرے ممالک میں پہلے سے قبول کیا جا رہا ہے؟
بھارتی سیاحوں کے لیے یو پی آئی کو ادائیگی کے طریقے کے طور پر سنگاپور، بھوٹان، نیپال، سری لنکا، متحدہ عرب امارات، ماریشس، قطر اور فرانس جیسے ممالک میں قبول کیا جا چکا ہے۔این آئی پی ایل کے مطابق، یو پی آئی کی قبولیت کو ممکن بنانے کے لیے دو ملین سے زیادہ بین الاقوامی مرچنٹس شامل کیے جا چکے ہیں۔این آئی پی ایل نامیبیا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور پیرو جیسے ممالک کو یو پی آئی جیسا نظام تیار کرنے میں بھی مدد فراہم کر رہا ہے۔ نومبر میں بھارت میں یو پی آئی نے 20.47 ارب لین دین پروسیس کیے، جن کی مالیت تقریباً 26.32 ٹریلین روپے رہی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
