Bharat Express DD Free Dish

India’s UPI

دہلی کے لاجپت نگر کے ایک دکاندار نے کہا کہ یو پی آئی لین دین کو فیس سے مستثنیٰ رکھنے سے کاروباریوں کو کافی فائدہ ہوا ہے۔ تہواروں کے دوران صارفین بلا جھجک یو پی آئی کے ذریعے ادائیگی کررہے ہیں۔ اس سے دکانوں پر صارفین کی آمدورفت بڑھتی ہے اور کاروبار معمول کے مطابق چلتا رہتا ہے۔دکاندار نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ مثبت ہے۔ تاہم، اب یہ دیکھنا ہوگا کہ آگے اس نظام کو جاری رکھنے کے سلسلے میں کیا فیصلہ لیا جاتا ہے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ تاجر ایم ڈی آر فیس کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈال سکتے۔ اس کے علاوہ گوگل پے، فون پے یا پے ٹی ایم جیسی ایپس بھی صارفین سے کسی اضافی ’پلیٹ فارم فیس‘ کی وصولی نہیں کرسکتیں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھارت کے یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس (یوپی آئی) کو لین دین کی مجموعی تعداد کی بنیاد پر دنیا کے سب سے بڑے ریئل ٹائم پیمنٹ سسٹم کے طور پر منظوری دی ہے۔ حکومت نے پیر کو یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ یہ اعتراف آئی ایم ایف کی جون 2025 میں جاری ہونے والی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

این پی سی آئی انٹرنیشنل اور ACLEDAبینک نے یو پی آئی اور کے ایچ کیو آر کو بھارت اور کمبوڈیا میں قبول کرنے کے لیے شراکت داری کی ہے، جس کے تحت سیاحوں کو محفوظ، باہمی طور پر قابلِ استعمال اور بے رکاوٹ کیو آر پر مبنی ادائیگیوں کی سہولت ملے گی۔

یو پی آئی روزانہ 640 ملین سے زائد لین دین انجام دے رہا ہے، جو کہ عالمی ادائیگی کے ادارے Visa کے یومیہ 639 ملین لین دین سے بھی زیادہ ہے۔