Bharat Express DD Free Dish

India-Saudi Arabia Relations : وزیراعظم مودی کے دور میں بھارت-سعودی تعلقات ہوئے مزید مضبوط، تجارت 43 بلین ڈالر سے تجاوز

بھارت اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات دن بدن مضبوط ہو رہے ہیں۔ 1947 میں شروع ہونے والا یہ تعلق اب ایک مؤثر اور جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس مضبوطی کی ایک بڑی مثال دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت ہے، جو سال 2023-24 میں 42.98 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔

بھارت اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات دن بدن مضبوط ہو رہے ہیں۔ سال 1947 میں شروع ہونے والا یہ تعلق اب ایک مؤثر اور جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاع، توانائی، سرمایہ کاری اور بھارت–مشرق وسطیٰ–یورپ اقتصادی راہداری (آئی ایم ای سی) جیسے اہم منصوبوں میں تعاون نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ اس مضبوطی کی ایک بڑی مثال دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت ہے، جو سال 2023-24 میں 42.98 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔

1947 میں قائم ہوا سفارتی رشتہ
بھارت اور سعودی عرب کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات 1947 میں قائم ہوئے۔ دونوں ملکوں نے 2010 میں رِیاض اعلامیہ پر دستخط کے ذریعے اپنے رشتے کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں تبدیل کیا۔ سعودی عرب بھارت کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جبکہ بھارت اس کا چوتھا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ سال 2006 میں سعودی فرمانرواں نے بھارت کا دورہ کیا اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں 2010 میں بھارت کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دورۂ سعودی عرب کے دوران تعلقات کو مزید وسعت ملی۔

وزیراعظم مودی کے دور میں بڑی پیش رفت
وزیراعظم نریندر مودی نے 2016 میں سعودی عرب کا اہم دورہ کیا، جس کے دوران انہیں سعودی عرب کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز “کنگ عبدالعزیز سیش” دیا گیا۔ دونوں ممالک مذہبی اور سماجی رشتوں کے ذریعے بھی مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہر سال لاکھوں ہندوستانی مسلمان حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب کا سفر کرتے ہیں اور سعودی حکومت نے گزشتہ چند برسوں میں بھارتی حجاج کے کوٹہ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

43 بلین ڈالر سے زیادہ کی تجارت
سعودی عرب، بھارت کے لیے تیل اور توانائی کا اہم ذریعہ ہے جبکہ بھارت وہاں بنیادی ڈھانچہ، پیٹروکیمیکل، صحت، زراعت اور رینیوبل انرجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ دوطرفہ اقتصادی تعاون میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور گزشتہ مالی سال تک تجارت کا حجم 42.98 بلین امریکی ڈالر پر پہنچ گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان آئی ایم ای سی اقتصادی راہداری پر کام جاری ہے، جو بھارت کو خلیجی خطے کے ذریعے یورپ سے جوڑے گا۔ یہ منصوبہ سمندری اور ریلوے نیٹ ورک پر مبنی ہوگا، جس سے تجارت کے تیز رفتار، محفوظ اور کم خرچ راستے پیدا ہوں گے۔

سعودی عرب میں مقیم بڑی بھارتی برادری
سعودی عرب میں تقریباً 26 لاکھ بھارتی شہری رہائش پذیر ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اور ثقافتی پل کا کام کرتے ہیں۔ بھارتی کارکنان سعودی عرب کی تعمیرات، صحت، آئی ٹی اور سروس سیکٹر میں اہم مقام رکھتے ہیں۔

کشمیر پر سعودی عرب کا موقف
عالمی سیاست کے تناظر میں بھی دونوں ملکوں کی قربت صاف دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان اور ترکی سے مختلف، سعودی عرب نے ہمیشہ کشمیر کے مسئلے کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت خود اس مسئلے سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

دوطرفہ تعلقات بلند ترین سطح پر
واضح طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم مودی کے دور میں بھارت اور سعودی عرب کے تعلقات نہ صرف مضبوط ہوئے ہیں بلکہ یہ تعلقات مستقبل میں عالمی اقتصادی اور دفاعی توازن پر بھی اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ دوطرفہ تعلقات آج اس بلند ترین سطح پر ہیں جہاں دونوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے کے ساتھ پہلے سے کہیں زیادہ جڑے ہوئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read