Bharat Express DD Free Dish

India improved its defence production: بھارت نے “میک ان انڈیا” کے آغاز سے اپنی دفاعی پیداوار کو کیسے بہتر کیا؟جانئے

حکومت نے 2029 تک دفاعی پیداوار کو 3 لاکھ کروڑ روپے اور برآمدات کو 50,000 کروڑ روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے لیے نئی ٹیکنالوجیز جیسے کہ مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی، اور جدید میزائل سسٹمز پر توجہ دی جا رہی ہے۔

بھارت نے “میک ان انڈیا” اقدام کے تحت اپنی دفاعی پیداوار میں شاندار ترقی حاصل کی ہے، جو 2014 میں وزیراعظم نریندر مودی کے ذریعے شروع کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد خود انحصاری کو فروغ دینا اور بھارت کو عالمی دفاعی مینوفیکچرنگ کا مرکز بنانا تھا۔ مالی سال 2023-24 میں بھارت کی دفاعی پیداوار 1.27 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جو 2014-15 کے مقابلے میں 174 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے، جب یہ صرف 46,429 کروڑ روپے تھی۔ اس کے علاوہ، دفاعی برآمدات 2013-14 میں 686 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2023-24 میں 21,083 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں، جو ایک دہائی میں 30 گنا اضافہ ہے۔

پیداوار اور برآمدات میں اضافہ

میک ان انڈیا نے دفاعی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے متعدد پالیسیاں متعارف کروائیں، جن میں نجی شعبے کی شرکت، غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی حدود میں نرمی، اور مقامی مینوفیکچرنگ پر زور شامل ہے۔ مالی سال 2023-24 میں، بھارت نے 100 سے زائد ممالک کو دفاعی سازوسامان برآمد کیا، جن میں جدید ہتھیاروں کے نظام جیسے کہ پیناکا راکٹ لانچر اور براہموس میزائل شامل ہیں۔ اس عرصے میں، دفاعی بجٹ 2013-14 کے 2.53 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 2025-26 میں 6.81 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا، جو خود انحصاری اور جدیدیت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

خود انحصاری کی طرف اقدامات

بھارت نے مقامی پیداوار کو بڑھانے کے لیے 14,000 سے زائد اشیاء کو سریجن پورٹل کے تحت اور 3,000 سے زائد اشیاء کو مثبت مقامی فہرستوں کے تحت تیار کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں، اب 65 فیصد دفاعی سازوسامان ملکی طور پر تیار کیا جا رہا ہے، جو ایک دہائی قبل 65-70 فیصد درآمدات پر انحصار کے مقابلے میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ اہم منصوبوں میں ایڈوانسڈ ٹوڈ آرٹلری گن سسٹم (اے ٹی اے جی ایس) شامل ہے، جس کے 307 یونٹس اور 327 ہائی موبلٹی گن ٹوئنگ گاڑیاں 7,000 کروڑ روپے کی لاگت سے خریدے گئے، جو مکمل طور پر بھارت میں ڈیزائن اور تیار کیے گئے۔ اس کے علاوہ، لائٹ کومبیٹ ایئر کرافٹ (تیجس) اور جدید بحری جہاز جیسے آئی این ایس سورت بھی اس اقدام کا حصہ ہیں۔

مستقبل کے اہداف

حکومت نے 2029 تک دفاعی پیداوار کو 3 لاکھ کروڑ روپے اور برآمدات کو 50,000 کروڑ روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے لیے نئی ٹیکنالوجیز جیسے کہ مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی، اور جدید میزائل سسٹمز پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کامیابیاں بھارت کو نہ صرف اپنی سیکیورٹی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیں گی بلکہ عالمی دفاعی مارکیٹ میں اسے ایک مضبوط مقام بھی فراہم کریں گی، جس سے معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read