India’s Defense Equipment: ’’ہندوستان کے دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی پر بڑھ رہا ہے دنیا کا اعتماد‘‘ دفاعی پیداوار اور برآمدات میں ہندوستان کی پیش رفت پر وزیراعظم مودی کا اظہار خیال
گھریلو دفاعی صنعت کو بڑے پیمانے پر فروغ دیتے ہوئے ہندوستان اور انڈونیشیا نے اس ماہ کے اوائل میں انڈونیشیائی فوج کو برہموس میزائلوں کی فراہمی کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ انڈونیشیا ہندوستان میں تیار کردہ استرا ایئر ٹو ایئر میزائل بھی خریدے گا۔ دونوں ممالک نے بحری سلامتی اور تحفظ کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک فریم ورک کو بھی حتمی شکل دی ہے۔
Adani Defence Partners with DRDO: اڈانی ڈیفنس نے بھارتی فضائیہ کے اگلی نسل کے فضائی نگرانی پروگرام کے لیے ڈی آر ڈی او کے ساتھ کی شراکت داری
اڈانی ڈیفنس اور ڈی آر ڈی او کے درمیان اہم معاہدہ۔ اے ای ڈبلیو اینڈ سی-ایم کے II پروگرام کے تحت چھ ترمیم شدہ ایئربس اے 321 طیاروں پر جدید فضائی مشن سسٹمز تیار اور نصب کیے جائیں گے۔ 2032-33 تک بھارتی فضائیہ میں شمولیت کا منصوبہ۔
New Army Chief: جنرل دھیرج سیٹھ نے بھارتی فوج کے 31ویں سربراہ کی حیثیت سے سنبھالا عہدہ، جنرل اپیندر دویدی چار دہائیوں سے زائد خدمات کے بعد سبکدوش
جنرل دھیرج سیٹھ نے آرمی ہیڈکوارٹر میں اسٹریٹجک پلاننگ اور صلاحیت سازی سے متعلق اہم ذمہ داریاں بھی نبھائیں، جہاں انہوں نے فوج کی جدید کاری، مستقبل کی ضروریات اور نئی ٹیکنالوجی کے مطابق صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ اعلیٰ فوجی تعلیم میں بھی نمایاں کارکردگی کے حامل رہے ہیں۔
Jorhat’s AN-32 Plane Crash: آسام میں اے این-32 طیارہ حادثے میں پانچ فضائی جوان شہید، وزیردفاع راج ناتھ سنگھ کا اظہار تعزیت
حادثے کے فوراً بعد ہندوستانی فضائیہ نے واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے کورٹ آف انکوائری کے قیام کا حکم دے دیا ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق فضائیہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پرانے اے این-32 اور آئی ایل-76 طیاروں کی جگہ نئے میڈیم ٹرانسپورٹ ایئرکرافٹ پروگرام پر بھی غور کر رہی ہے۔
India’s defence production reaches all-time high: ہندوستان کی دفاعی پیداوار مالی سال 2024-25 میں 1.5 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
اس مالی سال میں دفاعی پیداوار کی قیمت 2023-24 کے مقابلے میں 16.7 فیصد زیادہ ہے، جب یہ 1.27 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ اس ترقی کا سہرا سرکاری اور نجی شعبوں دونوں کو جاتا ہے، جہاں دفاعی پبلک سیکٹر انٹرپرائزز (DPSUs) نے کل پیداوار کا 79.2 فیصد اور نجی شعبے نے 20.8 فیصد حصہ ڈالا۔
Spy drones & loitering munitions from desi private firms: بھارتی فوج نے مقامی کمپنیوں سے 295 کروڑ روپے کے جاسوسی ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشنز کے معاہدے کئے
یہ معاہدے وزارت دفاع کے 2,000 کروڑ روپے کے ہنگامی پروکیورمنٹ بجٹ کا حصہ ہیں، جو آپریشن سندور کے بعد فوج کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ مکمل طور پر مقامی کمپنیوں سے کیے گئے یہ معاہدے بھارت کی دفاعی خود انحصاری کی طرف ایک اہم قدم ہیں۔
India’s defence exports set to rise: آپریشن سندور کے بعد بھارت کی دفاعی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ڈی آرڈی او چیف کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق، بھارت کا ہدف 2029 تک دفاعی برآمدات کو 50,000 کروڑ روپے تک بڑھانا ہے۔ آپریشن سندور نے نہ صرف بھارت کے "میک ان انڈیا" اور "آتماں نربھر بھارت" پروگراموں کی کامیابی کو اجاگر کیا۔
Tiger Triumph 2025: ٹائیگر ٹرائمف 2025،آندھرا پردیش میں انڈیا-امریکی انسانی امدادی مشقیں اختتام پذیر
جس کی مدد ایک ریپڈ ایکشن میڈیکل ٹیم (RAMT) اور ان کے امریکی ہم منصبوں کے ذریعے قائم کردہ ایک مشترکہ ریلیف اور میڈیکل کیمپ نے کی تھی
Prachand LCH: کھیل بدلنے والا دیسی اٹیک ہیلی کاپٹر جو ہندوستان کو 21,000 فٹ کی بلندی پر جنگ میں رکھے آگے
بھارت نے حال ہی میں اٹیک ہیلی کاپٹروں کی اپنی اب تک کی سب سے بڑی خریداری کی منظوری دی ہے - HAL سے 156 LCH کے لیے 62,000 کروڑ روپے کا سودا
India improved its defence production: بھارت نے “میک ان انڈیا” کے آغاز سے اپنی دفاعی پیداوار کو کیسے بہتر کیا؟جانئے
حکومت نے 2029 تک دفاعی پیداوار کو 3 لاکھ کروڑ روپے اور برآمدات کو 50,000 کروڑ روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے لیے نئی ٹیکنالوجیز جیسے کہ مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی، اور جدید میزائل سسٹمز پر توجہ دی جا رہی ہے۔





