Bharat Express DD Free Dish

Defence production

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس کامیابی کا سہرا وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت اور دفاعی شعبے کے مشترکہ اقدامات کو دیا۔ وزارت دفاع کے مطابق گزشتہ مالی سال میں دفاعی پیداوار 1.54 لاکھ کروڑ روپے تھی، جبکہ مالی سال 2020-21 میں یہ صرف 84,643 کروڑ روپے تھی۔ اس طرح پانچ برسوں میں دفاعی پیداوار میں 110 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت بھارت کی دفاعی خود کفالت کی پالیسی کو نئی رفتار دیتی ہے۔ دیسی ہتھیاروں کی تیاری نہ صرف درآمدات پر انحصار کم کرے گی بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی دفاعی صنعت کو بھی مضبوط مقام دلانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

اس مالی سال میں دفاعی پیداوار کی قیمت 2023-24 کے مقابلے میں 16.7 فیصد زیادہ ہے، جب یہ 1.27 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ اس ترقی کا سہرا سرکاری اور نجی شعبوں دونوں کو جاتا ہے، جہاں دفاعی پبلک سیکٹر انٹرپرائزز (DPSUs) نے کل پیداوار کا 79.2 فیصد اور نجی شعبے نے 20.8 فیصد حصہ ڈالا۔

دریں اثنا ملک کی دفاعی برآمدات نے بھی مالی سال 2024-25 میں ریکارڈ 23,622 کروڑ روپے کی بلند سطح حاصل کی ہے، جو پچھلے سال کے 21,083 کروڑ روپے سے 12.04 فیصد زیادہ ہے۔

یہ معاہدے وزارت دفاع کے 2,000 کروڑ روپے کے ہنگامی پروکیورمنٹ بجٹ کا حصہ ہیں، جو آپریشن سندور کے بعد فوج کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ مکمل طور پر مقامی کمپنیوں سے کیے گئے یہ معاہدے بھارت کی دفاعی خود انحصاری کی طرف ایک اہم قدم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، بھارت کا ہدف 2029 تک دفاعی برآمدات کو 50,000 کروڑ روپے تک بڑھانا ہے۔ آپریشن سندور نے نہ صرف بھارت کے "میک ان انڈیا" اور "آتماں نربھر بھارت" پروگراموں کی کامیابی کو اجاگر کیا۔

جس کی مدد ایک ریپڈ ایکشن میڈیکل ٹیم (RAMT) اور ان کے امریکی ہم منصبوں کے ذریعے قائم کردہ ایک مشترکہ ریلیف اور میڈیکل کیمپ نے کی تھی

حکومت نے 2029 تک دفاعی پیداوار کو 3 لاکھ کروڑ روپے اور برآمدات کو 50,000 کروڑ روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے لیے نئی ٹیکنالوجیز جیسے کہ مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی، اور جدید میزائل سسٹمز پر توجہ دی جا رہی ہے۔

دفاعی برآمدات مالی سال 2013-14 میں  686 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2023-24 میں روپے  21,083 کروڑ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جو گزشتہ 10 سالوں کے دوران 30 گنا اضافہ کی نشاندہی کرتی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ یہ صرف ایک سرکاری نعرہ نہیں ہے ، بلکہ اصلاحات کے تئیں حکومت کا عزم ہے ۔  انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے فیصلے نہ صرف وزارت کی سطح پر لیے جا رہے ہیں بلکہ مسلح افواج اور ڈی پی ایس یو بھی اس کوشش میں حصہ لے رہے ہیں۔