Bharat Express DD Free Dish

India stopped Chenab water from Bagalihar Dam: سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد ہندوستان نے پاکستان کو دیا ایک اور جھٹکا، بگلہار ڈیم سے چناب کا پانی روکا

ہندوستان نے پاکستان کے خلاف ایک اور اہم فیصلہ لیتے ہوئے بگلہار باندھ سے دریائے چناب کا پانی کو پوری طرح سے روک دیا ہے اور حکومت شمالی کشمیر کے کشن گنگا بند پر بھی اسی نوعیت کے فیصلے پر غور کر رہی ہے۔

پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد ہندوستان نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے بعد ایک اور سخت قدم اٹھاتے ہوئے دریائے چناب کے پانی کو بگلہار بند سے پاکستان جانے سے روک دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ فیصلہ پاکستان کو پانی کے محاذ پر دباؤ میں لانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

پانی کا اخراج پوری طرح سے بند کردیا گیا

سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے بگلہار بند سے پانی کے اخراج کو مکمل طور پر روک دیا ہے، جس کے ذریعے دریائے چناب کا بہاؤ پاکستان کی طرف جاتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اب حکومت شمالی کشمیر کے کشن گنگا بند پر بھی اسی نوعیت کے فیصلے پر غور کر رہی ہے۔

سندھ طاس معاہدہ پہلے ہی معطل کردیا گیا ہے

یاد رہے کہ پہلگام میں ہوئے حالیہ حملے میں 25 سیاحوں اور ایک کشمیری نوجوان کے قتل کے بعد ہندوستان نے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا، جو عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو مغربی دریاؤں — سندھ، چناب اور جہلم — پر کنٹرول حاصل ہے۔ پاکستان انہی دریاؤں کے پانی سے اپنی 80 فیصد زرعی زمین کو سیراب کرتا ہے۔

جموں کے رام بن علاقے میں واقع ہے بگلہارباندھ

بگلہار باندھ، جو جموں کے رام بن علاقے میں واقع ہے، ماضی میں بھی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازع کا باعث رہا ہے۔ پاکستان نے کئی بار اس منصوبے پر عالمی بینک سے رجوع کیا لیکن ہندوستان کا مؤقف رہا ہے کہ اس نے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی نہیں کی۔

“یا تو سندھ میں ہمارا پانی بہے گا یا ان کا خون”

پاکستان کی حکومت اور سیاست دان اس تازہ پیش رفت پر سخت ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ بیان — “یا تو سندھ میں ہمارا پانی بہے گا یا ان کا خون” — کو ہندوستان نے اشتعال انگیز قرار دیا۔ پاکستانی وزرا نے اس اقدام کو ’اعلانِ جنگ‘ سے تعبیر کیا ہے۔

پاکستانی زرعی ماہرین کے مطابق، اس اقدام سے پاکستان کو نہ صرف زرعی نقصان ہوگا بلکہ شہروں کی پانی کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار بھی متاثر ہوگی۔ کراچی کی ایک تحقیقی فرم ’پاکستان ایگریکلچر ریسرچ‘ کے مطابق، ’’ہم غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں، ہمارے پاس فوری کوئی متبادل نہیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read