ایس پی ہیڈکوارٹر میں اکھلیش یادو کی پریس کانفرنس۔
لکھنؤ: سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اکھلیش یادو نے نیپال میں پرتشدد مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے بڑا بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ووٹ کی ڈکیتی ہوگی تو پڑوسی ملک کی طرح عوام یہاں بھی سڑکوں پر دکھائی دے سکتی ہے۔
اکھلیش نے ای سی پر لگایا ووٹ چوری کا الزام
ایس پی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران جمعہ کے روز اکھلیش یادو نے حکومت اور الیکشن کمیشن پر ووٹ چوری کا الزام لگایا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ ووٹ چوری کہیں نہ ہو، ورنہ جو پڑوس میں عوام کرتی دکھ رہی ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ یہاں بھی سڑکوں پر کرتی نظر آئے گی۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس آئی آر پر الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرے گا۔ الیکشن کمیشن بی جے پی کا ’جُگاڑ کمیشن‘ نہیں بنے گا۔
’’پڑوسی ممالک اور ہماری سرحدوں پر امن ہو‘‘
انہوں نے کہا کہ ملک کی پہلی ترجیح پڑوسی ممالک اور ہماری سرحدوں پر امن ہونی چاہئے۔ بھارت کی حکومت اپنی خارجہ پالیسی میں ناکام رہی ہے۔ وہاں کی داخلی سیاست میں کیا ہوا، اس پر بہت ساری اسٹوریز آ رہی ہیں کیونکہ سوشل میڈیا کے دور میں کوئی سر حد نہیں ہے۔ نیپال کے حوالے سے صرف ایک پہلو کو دیکھ کر ہم کوئی فیصلہ نہیں لے سکتے۔ ایس پی سربراہ نے کہا کہ وہاں اور بھی کئی سوال تھے، جیسے غربت، بے روزگاری، مہنگائی وغیرہ۔ ساتھ ہی جس نسل کی بات ہو رہی ہے، وہ لوگ بھی سوشل میڈیا پر کئی چیزیں بتا رہے ہیں۔
’’پنچایتی راج میں چل رہا ہے 60 فیصد کمیشن‘‘
اکھلیش یادو نے کہا کہ کرپشن، کڈنیپ اور ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ میں یوپی سب سے آگے ہے۔ سب سے زیادہ لوگ سی ایم ہاؤس کے باہر زہر کھا کر مر رہے ہیں۔ پنچایتی راج میں 60 فیصد کمیشن چل رہا ہے۔ بی جے پی لیڈران کے پاس کوئی کام نہیں ہے، وہ کھوکھلے ہیں۔ اس دوران اکھلیش نے یہ بھی کہا کہ سکھ سماج کی بہادری کے چرچے بہت پرانے ہیں۔ اپنی محنت سے انہوں نے اپنا مقام بنایا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


