ملک کے مختلف حصوں میں وقف ترمیمی قانون کے خلاف جاری احتجاج کے درمیان اے آئی ایم آئی ایم لیڈر شعیب جامعی نے تازہ بیان دیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ پورے ملک کا نظام اور پورا میڈیا ہی ’’اسلاموفوبیا‘‘ کا شکار ہو گیا ہے۔ وہ مسلمانوں کو احتجاج کو ’’دنگا‘‘ کہتے ہیں اور ہندو تنظیموں کے تلواریں لہرانے کو ’’شکتی پردرشن‘‘۔
شعیب جامعی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ’’بھارتی میڈیا اور نظام مکمل طور پر ’’اسلام فوبیا‘‘ کا شکار ہے۔ ہتھیاروں کے ساتھ مظاہرہ کرنے والی ہندو تنظیم کی غنڈہ گردی کو ’’طاقت کا مظاہرہ‘‘ کہا جاتا ہے اور جب کوئی مسلم تنظیم محض سیاہ پٹی باندھ کر وقف قانون کے خلاف احتجاج کرتی ہے تو اسے 2 لاکھ کا بانڈ بھرنا پڑتا ہے اور میڈیا میں اسے ’’دنگا پلان‘‘ کہا جاتا ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ اب ہر شہری کے برابری نہیں۔‘‘
भारतीय मीडिया और सिस्टम पूरी तरह से “इस्लामोफोबिया’ से ग्रस्त है।
हथियार लेकर प्रदर्शन करने वाले हिन्दू संगठन के हुड़दंग को “शक्ति प्रदर्शन” कहा जाता है और मुस्लिम संगठन जब वक़्फ़ कानून के खिलाफ महज काली पट्टी बांधकर प्रदर्शन करती है तो उसे दो लाख का बॉन्ड भरना पड़ता है, और…— Dr. Shoaib Jamai (@shoaibJamei) April 14, 2025
واضح رہے کہ شعیب جامعی نے اپنی اس پوسٹ میں اتر پردیش میں وقف بل کے خلاف سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کرنے والوں کو نوٹس بھیجے جانے کو حوالہ بنایا ہے۔ اترپردیش انتظامیہ نے سیتا پور اور مظفر نگر میں بہت سے لوگوں سے 2 لاکھ روپے کے بانڈ جمع کرنے کو کہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کی گئی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے یہ عمل لوگوں کو مشتعل کرنے والا ہے۔ مظفر نگر ضلع انتظامیہ نے مسلم مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کے ذمہ دار سرکردہ لوگوں اور جمعیۃ علماء ہند کے کئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف بھی نوٹس جاری کیے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


