بی جے پی کے رکن اسمبلی ٹی راجا سنگھ۔ (فائل فوٹو)
پیغمبرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توہین آمیزتبصرہ کرنے کے لئے سال 2022 میں درج معاملے میں رکن اسمبلی ٹی راجا سنگھ کوحیدرآباد کی اسپیشل کورٹ نے منگل کے روزبری کردیا۔ ایم پی/ایم ایل اے کے لئے بنی اسپیشل کورٹ نے ٹی راجا سنگھ کوبری کردیا ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ پیغمبرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے اHydraورمتنازعہ بیان دینے کے بعد انہیں پریوینٹیوڈیٹینشن (پی ڈی) ایکٹ کے تحت گرفتارکیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد تقریباً دو ماہ تک وہ جیل میں بند تھے۔ قابل ذکرہے کہ ٹی راجا سنگھ اپنے بیانوں کے لئے کافی سرخیوں میں رہتے ہیں اورانہوں نے گزشتہ سال بی جے پی کا دامن بھی چھوڑدیا ہے۔
پیغمبرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں متنازعہ تبصرہ کرنے کی وجہ سے رکن اسمبلی پرمعاملہ درج کیا گیا تھا۔ ان کے بیانات کی وجہ سے عوام میں غصہ پھیل گیا تھا۔ حالانکہ ابھی انہیں اسپیشل کورٹ نے بری کردیا ہے۔ ٹی راجا سنگھ کے وکیل کرونا ساگرنے بتایا کہ عدالت نے تسلیم کیا کہ استغاثہ الزامات کوبغیرکسی شک کے ثابت کرنے میں ناکام رہا اورایم ایل اے کوبری کردیا۔ حیدرآباد پولیس کمشنرسی وی آنند کے ذریعہ پریوینٹیوڈیٹینشن (پی ڈی) ایکٹ نافذ کئے جانے کے بعد ٹی راجا سنگھ کو25 اگست 2022 کو گرفتارکیا گیا تھا۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کے ذریعہ پولیس کمشنرکے حکم کومنسوخ کرنے اورانہیں ضمانت دینے کے بعد انہیں 9 نومبر2022 کوجیل سے رہا کیا گیا تھا۔ توہین آمیزتبصرہ کرنے کے بعد بی جے پی نے ٹی راجا سنگھ کوپارٹی سے معطل کردیا تھا۔
اے آئی ایم آئی ایم کے دباو میں رکھا گیا جیل: ٹی راجا سنگھ
حیدرآباد کی گوش محل اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرنے والے ٹی راجا سنگھ نے عدالت کے فیصلے کوسچائی کی جیت قراردیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے دباومیں اس وقت کی حکومت نے پریوینٹیوڈیٹینشن (پی ڈی) ایکٹ نافذ کیا اورانہیں تقریباً 77 دنوں تک جیل میں رکھا۔
عدالت سے سچائی، انصاف اورقانونی کی جیت ہوئی: ایم ایل اے
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرلکھا، “اس مشکل وقت میں مجھے عدلیہ پرپورا بھروسہ تھا، جیل سے باہرآنے کے بعد میں نے عدالت میں قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ یہ کیس ایم پی/ایم ایل اے کی خصوصی عدالت میں گزشتہ 4 سال سے چل رہا ہے، میں نے ہمیشہ اپنا کیس قانون اورآئین کے دائرے میں رہ کرپیش کیا ہے۔ آج عدالت میں مجھ پرلگائے گئے سبھی الزامات جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔ یہ سچائی، انصاف اورقانون کی جیت ہے۔”
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


