Bharat Express DD Free Dish

Ahmedabad Plane Crash: وزیر داخلہ امت شاہ پہنچے احمدآباد، جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے لی حادثے کی جانکاری

وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ گجرات کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل اور شہری ہوا بازی کے وزیر بھی موقع پر نظر آئے۔

ایئر انڈیا کا بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارہ آج دوپہر احمد آباد میں گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارے میں عملے کے 12 ارکان سمیت 242 افراد سوار تھے۔ اس حادثے میں اب تک صرف ایک شخص کے زندہ بچنے کی اطلاع ہے۔ خدشہ ہے کہ باقی سارے مسافر مارے جا چکے ہیں۔ مسافروں کے علاوہ کچھ میڈیکل طلبا کی بھی موت کی اطلاع ہے، جو کہ اس ہاسٹل میں موجود تھے جس پر طیارہ گرا۔

دریں اثنا حادثے کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ چند گھنٹوں میں ہی احمد آباد پہنچ گئے اور جائے واقعہ کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ گجرات کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل اور شہری ہوا بازی کے وزیر بھی موقع پر نظر آئے۔ امت شاہ نے گراؤنڈ زیرو پر حادثے کی جانکاری لی اور اسپتال میں موجود زخمیوں کی بھی جانکاری لی۔

ایک مسافر کے بچنے کی تصدیق

وہیں ایک کرشماتی واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے احمد آباد پولیس نے کہا ہے کہ احمد آباد میں ایئر انڈیا کے اندوہناک طیارہ حادثے میں ایک مسافر کے زندہ بچ جانے کی اطلاع ہے۔ زندہ بچ جانے والے شخص کو صرف معمولی زخم آئے تھے اور وہ حادثے کی جگہ سے بغیر کسی امداد کے دور نکلنے میں کامیاب رہا۔

اے این آئی نے احمد آباد کے پولیس کمشنر جی ایس ملک کے حوالے سے کہا ہے کہ ’’پولیس کو سیٹ 11A پر زندہ بچ جانے والا ایک شخص ملا ہے۔ وہ شخص اسپتال میں پایا گیا ہے اور وہ زیر علاج ہے۔ ابھی تک اموات کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ فلائٹ کے رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read