Bharat Express DD Free Dish

Home Minister Amit Shah: تریپورہ میں ولیج کمیٹی انتخابات کی گہماگہمی، وزیر داخلہ امت شاہ اور مانک ساہا کی اہم ملاقات

ولیج کمیٹی انتخابات اس لیے بھی اہم ہیں کہ تقریباً 10 سال کے طویل وقفے کے بعد یہ انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ 28 ستمبر کو ہونے والے انتخابات میں غیر ٹی ٹی اے اے ڈی سی علاقوں میں گرام پنچایتوں کی طرز پر کام کرنے والی 587 ولیج کمیٹیوں کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ ان انتخابات میں مجموعی طور پر 2,634 انتخابی حلقوں کی 4,597 نشستوں کے لیے مقابلہ ہوگا۔

نئی دہلی: تریپورہ کے قبائلی علاقوں میں ہونے والے ولیج کمیٹی انتخابات سے قبل ریاست کی سیاست میں سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ جمعہ کو نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور تریپورہ کے وزیر اعلیٰ مانک ساہا کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں ٹیپرا موتھا پارٹی کے سربراہ پردیوت بکرم مانکیہ دیب برما اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے شمال مشرقی رابطہ کار اور پوری سے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ سمبت پاترا بھی موجود تھے۔ ملاقات کے بعد وزیر اعلیٰ مانک ساہا نے اسے ’’مفید اور تعمیری‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ تریپورہ سے متعلق کئی اہم امور پر بات چیت ہوئی۔ ان کے مطابق گفتگو میں باہمی اہمیت کے معاملات کے علاوہ ریاست کے عوام کی ترقی اور فلاح و بہبود سے متعلق مسائل پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔ تاہم وزیر اعلیٰ نے ملاقات میں ہونے والے کسی ٹھوس فیصلے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

انتخابی اتحاد کو لے کر کشیدگی

دراصل تریپورہ ٹرائبل ایریاز آٹونومس ڈسٹرکٹ کونسل سے وابستہ علاقوں میں ولیج کمیٹی انتخابات کو لے کر بی جے پی اور اس کی اتحادی ٹیپرا موتھا کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے بات چیت جاری تھی۔ دونوں جماعتیں انتخابی حکمت عملی اور اتحاد کے حوالے سے کئی دور کی بات چیت کر چکی ہیں، تاہم اب تک کسی واضح نتیجے پر نہیں پہنچ سکی تھیں۔ ٹیپرا موتھا کے سربراہ پردیوت دیب برما نے 2 ستمبر کو جاری ایک ویڈیو پیغام میں پارٹی کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک سہ فریقی معاہدے میں طے شدہ شرائط نافذ نہیں کی جاتیں، ان کی پارٹی انتخابی اتحاد کے لیے تیار نہیں ہوگی۔ انہوں نے خاص طور پر مقامی قبائلی لوگوں کے زمین سے متعلق حقوق اور معاہدے میں شامل اس کے نکات پر زور دیا تھا۔

2024 کا معاہدہ اہم مسئلہ

ٹیپرا موتھا اور مرکزی حکومت کے درمیان یہ معاملہ نیا نہیں ہے۔ طویل مذاکرات کے بعد 2 مارچ 2024 کو مرکزی حکومت، تریپورہ حکومت اور ٹیپرا موتھا کے درمیان سہ فریقی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ اس موقع پر وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعلیٰ مانک ساہا بھی موجود تھے۔ اس کے چند ہی دن بعد 7 مارچ 2024 کو ٹیپرا موتھا بی جے پی کی قیادت والی تریپورہ حکومت میں شامل ہوگئی تھی۔ 13 ارکان اسمبلی والی پارٹی کے حکومت میں شامل ہونے سے ریاست کی سیاست میں اہم تبدیلی دیکھی گئی تھی۔ اب ولیج کمیٹی انتخابات سے قبل ایک بار پھر زمین کے حقوق اور معاہدے کی شرائط کا معاملہ سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔

بی جے پی نے بھی انتخابی تیاری تیز کردی

انتخابات کے پیش نظر بی جے پی نے بھی اپنی تیاریوں میں تیزی کردی ہے۔ پارٹی کے پانچ مرکزی رہنما اس ہفتے کے آغاز میں اگرتلہ پہنچے تھے۔ ان میں قومی جنرل سکریٹری (تنظیم) بی ایل سنتوش، شمال مشرقی رابطہ کار سمبت پاترا، شمال مشرقی شریک رابطہ کار راجیو ببر، مرکزی نگران راج دیپ رائے اور جی آر رویندر راجو شامل تھے۔ 1 اور 2 ستمبر کو ان لیڈروں نے ریاستی بی جے پی لیڈروں کے ساتھ مسلسل میٹنگیں کیں۔ ان اجلاسوں میں انتخابات کی تیاری، تنظیمی صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ مانک ساہا، ریاستی بی جے پی صدر ابھیشیک دیبرائے، سابق وزیر اعلیٰ بپلپ کمار دیب، راجیہ سبھا رکن راجیو بھٹاچاریہ اور سینئر وزیر رتن لال ناتھ سمیت کئی رہنما ان میٹنگوں میں شریک ہوئے۔

10 سال بعد ہو رہے ہیں ولیج کمیٹی انتخابات

ولیج کمیٹی انتخابات اس لیے بھی اہم ہیں کہ تقریباً 10 سال کے طویل وقفے کے بعد یہ انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ 28 ستمبر کو ہونے والے انتخابات میں غیر ٹی ٹی اے اے ڈی سی علاقوں میں گرام پنچایتوں کی طرز پر کام کرنے والی 587 ولیج کمیٹیوں کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ ان انتخابات میں مجموعی طور پر 2,634 انتخابی حلقوں کی 4,597 نشستوں کے لیے مقابلہ ہوگا۔ ایسے میں بی جے پی اور ٹیپرا موتھا کے درمیان تال میل کو صرف انتخابی حساب کتاب تک محدود نہیں سمجھا جا رہا، بلکہ اس کے اثرات تریپورہ کی قبائلی سیاست اور دونوں جماعتوں کے باہمی تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read